ایف آئی اے نے افغان شہریوں کو جعلی اسپانسر شپ پر ای ویزے جاری کرنے والے گروہ کا پردہ فاش کر دیا۔ انسدادِ انسانی اسمگلنگ سیل کی کارروائی میں چھ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ دو افغان باشندے بھی موقع سے گرفتار کر لیے گئے۔
نجی ٹی وی چینل (سما)کے مطابق ایف آئی اے کی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ اس منظم نیٹ ورک نے وزارتِ خارجہ اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کے بعض اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے جعلی دستاویزات کے ذریعے درجنوں افغان شہریوں کو ای ویزے جاری کرائے۔
تحقیقات کے مطابق ویزوں کے حصول کے لیے جعلی اسپانسر شپ لیٹرز، شناختی کارڈز اور دیگر سرکاری دستاویزات استعمال کی گئیں۔ حیران کن طور پر تمام ویزے صرف 24 سے 48 گھنٹوں میں جاری کیے گئے، اور کسی بھی انٹیلیجنس ادارے کو اس عمل سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گروہ کا مرکزی نیٹ ورک اسلام آباد کے علاقے جی-8 میں واقع ایک شوروم سے چلایا جا رہا تھا، جہاں سے افغان شہریوں کو ویزوں کے بدلے ہزاروں ڈالرز وصول کیے جاتے تھے۔ ایف آئی اے کے مطابق اس نیٹ ورک نے اب تک چار کروڑ روپے سے زائد کی مشکوک رقوم مختلف بینک اکاؤنٹس میں جمع کر رکھی تھیں۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے قبضے سے موبائل فونز، جعلی کاغذات، سرکاری مہریں اور دیگر اہم شواہد برآمد کیے گئے ہیں۔ مزید سرکاری ملازمین کی شمولیت کے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں، جن کی گرفتاری متوقع ہے۔
حکام کے مطابق یہ گروہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی میں ملوث تھا بلکہ اس کی سرگرمیاں قومی سلامتی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی تھیں۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ معاملے کی جامع تحقیقات جاری ہیں، اور اس مجرمانہ نیٹ ورک کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔





