برکس سربراہی اجلاس میں بھارت کی ایک اور سفارتی ناکامی

برکس سربراہی اجلاس میں بھارت کی ایک اور سفارتی ناکامی

بھارت کو ایک اور عالمی فورم پر سیاسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے جب برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس میں پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو گئیں۔

بھارت کی جانب سے اجلاس میں حسب روایت پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگانے کی کوشش کی گئی تاہم برکس کی قیادت نے ان الزامات کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔

برکس اعلامیے میں نہ تو کسی قسم کی دہشت گردی کا ذکر کیا گیا اور نہ ہی پاکستان کے خلاف کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ اشارہ شامل کیا گیا۔

اجلاس کا محور ماحولیاتی تبدیلی، غربت، صحت اور عالمی جنوبی ممالک کے باہمی تعاون جیسے مثبت اور ترقیاتی امور رہے،  ماہرین کے مطابق یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کا پاکستان مخالف بیانیہ اپنا اثر کھو چکا ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کو باقاعدہ طور پر برکس کا نیا رکن منتخب کیا گیا جبکہ بیلاروس، بولیویا، قازقستان، کیوبا، نائجیریا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ویتنام، یوگنڈا اور ازبکستان کو پارٹنر ممالک کا درجہ دیا گیا۔

سفارتی حلقوں کے مطابق یہ اقدام بھارت کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے اور برکس کو زیادہ متوازن پلیٹ فارم بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے بالآخر آپریشن سندور میں فوجی ہلاکتوں کا اعتراف کر لیا

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں پہلگام حملے کا ذکر کیا اور پاکستان پر الزام تراشی کی لیکن برکس اعلامیے میں نہ اس حملے کا تذکرہ کیا گیا اور نہ ہی بھارت کے الزامات کو کسی قسم کی اہمیت دی گئی۔

Scroll to Top