بنگلہ دیش کی معزول خاتون وزیراعظم پر انسانیت کے خلاف جرائم میں فردِ جرم عائد کر دی گئی

بنگلہ دیش میں خصوصی ٹربیونل نے معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ سابق وزیر داخلہ اسدالزماں خان اور سابق پولیس چیف چودھری عبداللہ المامون پر انسانیت کے خلاف جرائم کے سنگین الزامات میں فردِ جرم عائد کر دی۔

یہ الزامات گزشتہ سال ایک عوامی احتجاج کے دوران سینکڑوں طلبہ کے قتل عام سے متعلق ہیں۔

جسٹس غلام مرتضیٰ مزمدر کی سربراہی میں قائم تین رکنی عدالتی پینل نے یہ فیصلہ سنایا، المامون نے عدالت میں جرم کا اعتراف کرتے ہوئے ریاستی گواہ بننے کی اجازت طلب کی جسے عدالت نے منظور کر لیا، چیف پراسیکیوٹر محمد تاج الاسلام کے مطابق المامون بعد میں دیگر ملزمان کے خلاف بیان دیں گے۔

استغاثہ نے عدالت میں شیخ حسینہ کی ایک آڈیو ریکارڈنگ اور دیگر دستاویزات بھی بطور ثبوت پیش کیں، عدالت نے مقدمے میں حسینہ اور خان کے نام خارج کرنے کی سرکاری وکیل امیر حسین کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی آئندہ سماعت کے لیے 3 اور 4 اگست کی تاریخیں مقرر کیں۔

شیخ حسینہ 5 اگست سے بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں، عبوری حکومت نے ان کی حوالگی کے لیے بھارت کو باضابطہ درخواست بھیجی ہے لیکن اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

عوامی لیگ نے عدالتی کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پارٹی نے کہا کہ موجودہ حکومت عدلیہ کو سیاسی مخالفین کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے جس سے عوام کا عدالتی نظام پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فوجی امداد کی بحالی کے لیے امریکا سے مثبت پیغامات موصول ہوئے ہیں، یوکرینی صدر

پارٹی نے اپنے بیان میں اس عدالتی اقدام کو جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیتے ہوئے فردِ جرم کی مذمت کی اور اسے اپنی قیادت کے خلاف جاری سیاسی انتقامی مہم کا حصہ قرار دیا۔

Scroll to Top