پشاور :خیبرپختونخوا اسمبلی میں صوبے کے اصل مسائل کی بجائے غیر اہم موضوعات پر بحث نے اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ خان کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اسمبلی کا بیشتر وقت وزیراعلیٰ کے اغواء، ڈی چوک کی لائٹس بند ہونے اور قیدی کے بیانات پر ضائع کیا گیا، جبکہ عوامی مسائل پر سنجیدہ بحث نہیں ہوئی۔
ڈاکٹر عباداللہ خان نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں کہا کہ امن و امان کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے، مگر اس حوالے سے کوئی مثبت اقدامات نہیں کیے گئے۔
انہوں نے طالبان کے کابل قبضے کے وقت کیے گئے فیصلوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ دہشت گردوں کی واپسی کا معاہدہ عمران خان اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کی سربراہی میں ہوا تھا، جس پر حکومت کی جانب سے بیرسٹر سیف نے دستخط کیے۔
اپوزیشن لیڈر نے الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردوں کی سہولت کار ہے اور وزیراعلیٰ خود ایپکس کمیٹی میں تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ بھتہ بھی دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ خیبرپختونخوا سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے اور دہشت گردوں کے خلاف یکساں کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مقامی اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے اور مؤثر حکمت عملی بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ امن قائم کیا جا سکے۔
ڈاکٹر عباداللہ خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجودہ بجٹ پی ٹی آئی کا بارہواں اور آخری بجٹ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں آئینی طریقے سے عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا اور اب یہ ہی طریقہ کار دوبارہ استعمال کیا جائے گا جب اپوزیشن کے پاس مطلوبہ تعداد ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : ٹیکساس میں سیلاب کی صورتحال، صدر ٹرمپ نے فوری امداد کا اعلان کر دیا
اپوزیشن لیڈر نے امیر مقام کے ایک ہوٹل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہوٹل پانی سے 35 فٹ بلند ہے اور پچھلے خطرناک سیلابوں میں پانی وہاں تک نہیں پہنچا، تاہم حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لیے اس بات کو ہوا دے رہی ہے تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔
ڈاکٹر عباداللہ خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر فوری توجہ دی جائے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔





