اسلام آباد :پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی اس وقت شدید داخلی اختلافات اور تقسیم کا شکار ہے، اور موجودہ حالات میں پارٹی کی کامیابی ممکن نظر نہیں آتی۔
ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی واپسی کی بات محض پارٹی کو مرچ مصالحہ لگانے کے لیے کی گئی، حقیقت میں نہ وہ واپس آئیں گے اور نہ ہی یہ فیصلہ بانی پی ٹی آئی نے خود کیا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پارٹی اجلاسوں میں بات چیت گالم گلوچ سے شروع ہو کر گالم گلوچ پر ہی ختم ہوتی ہے۔ اختلافات اتنے شدید ہیں کہ پارٹی کی اندرونی فضا مکمل انتشار کا شکار ہے۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ اگر موجودہ قیادت احتجاج میں کامیاب ہوئی تو وہ معذرت کر لیں گے، لیکن اگر ناکامی ہوئی تو وہ خود قیادت سنبھال کر عوام کو سڑکوں پر نکال کر دکھائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : صوبائی اسمبلی میں عوامی مسائل پر توجہ نہ دینا حکومت کی ناکامی ہے، ڈاکٹر عباداللہ
انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی نہ مارتے تو بانی پی ٹی آئی کو مئی 2024 میں رہا کروا چکے ہوتے۔ علیمہ خان نے نہ صرف میڈیا پر انہیں غدارکہا بلکہ پارٹی سے بھی نکلوا دیا۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کی حالت پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں سینیٹ الیکشن کے لیے منڈی لگی ہوئی ہے، اور سڑکیں مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔





