صوبہ خیبرپختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں تجاوزات کے خلاف جاری بڑے پیمانے پر آپریشن کی ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو موصول ہو گئی ہے، جس میں نو اضلاع میں کی گئی کارروائیوں کی تفصیلات شامل ہیں۔
نجی ٹی وی چینل(جیونیوز )کے مطابق دو ہفتوں پر محیط اس آپریشن کے دوران مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع—سوات، باجوڑ، بونیر، دیر لوئر، دیر اپر، اور ضلع مالاکنڈ—میں تجاوزات کے خلاف مؤثر اقدامات کیے گئے۔
اہم اعداد و شمار:
آپریشن کے دوران 63 عمارتیں گرائی گئیں، جبکہ سوات میں ایک عمارت سیل کی گئی۔
20 کنال سے زائد زمین پر بنی غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کیا گیا۔
سوات میں 204 کنال سے زائد رقبے پر قائم تجاوزات کی نشاندہی ہوئی، جن میں سے 79 کنال کو کلیئر کیا جا چکا ہے۔
سوات میں 12 کلومیٹر سے زیادہ حد بندی مکمل کی گئی۔
باجوڑ میں 16، بونیر میں 9، دیرلوئر میں 22، دیراپر میں 11 اور مالاکنڈ میں 4 عمارتیں سیل کی گئیں۔
مجموعی نتائج:
رپورٹ کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن بھر میں اب تک 588 کنال سے زائد زمین پر تجاوزات کا انکشاف ہوا، جن میں سے 198 کنال سے زائد زمین واگزار کرالی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 159 کلومیٹر سے زیادہ علاقے کی باقاعدہ حد بندی کی گئی اور 60 سے زائد مقامات پر باڑ لگائی گئی ہے تاکہ دوبارہ تجاوزات نہ ہو سکیں۔
انتظامیہ کا ردعمل اور آئندہ اقدامات
کمشنر مالاکنڈ عابد وزیر نے میڈیا کو بتایا کہ ’’ڈویژن بھر میں انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں 24 گھنٹے فیلڈ میں موجود رہیں گی تاکہ کارروائی کو مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ دریاؤں کے کنارے موجود ہوٹلز کو فوری طور پر باڑ لگانے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔ مزید برآں، واگزار کرائی گئی زمین پر محکمہ جنگلات اور زراعت کو پودے لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تجارتی مراکز بھی ریڈار پر
کمشنرعابد وزیر کے مطابق اب آپریشن کا دائرہ کمرشل پلازوں تک بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ ایسے پلازے جو بغیر پارکنگ کے تعمیر کیے گئے ہیں، ان کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔





