چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات پرامن اور خوش اسلوبی سے مکمل ہوئے، اور تمام امیدواروں کے نام خود بانی پی ٹی آئی عمران خان کی منظوری سے مارچ 2024 میں ہی فائنل کیے جا چکے تھے۔
جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ایک بھی ایسا امیدوار نامزد نہیں کیا گیا جس کا فیصلہ عمران خان کی مشاورت کے بغیر کیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے مرزا محمد آفریدی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ مرزا آفریدی کا نام بھی ذاتی طور پر عمران خان نے فائنل کیا۔
مخصوص نشستوں کے باعث تاخیر ہوئی
بیرسٹر گوہر کے مطابق مارچ 2024 میں ہی تمام ناموں کو حتمی شکل دے دی گئی تھی، تاہم مخصوص نشستوں کے معاملے کی قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے سینیٹ الیکشن کا عمل کچھ تاخیر کا شکار ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد کچھ حلقوں کو خدشہ تھا کہ پارٹی کو نشستیں کم ملیں گی، تاہم ہمیں خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی 6 نشستیں مل گئیں، جو ہماری توقع کے عین مطابق ہے۔
’’مرزا آفریدی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے‘‘
چیئرمین پی ٹی آئی نے زور دے کر کہا کہ 9 مئی 2023 کے بعد پریس کانفرنس کرنے والوں کو ٹکٹ دینے کی باتیں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مرزا محمد آفریدی نے نہ صرف پارٹی کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا بلکہ وہ ہمیشہ پارٹی بیانیے اور مفادات کے ساتھ وفاداری سے کھڑے رہے۔
’’فیصلے کا مکمل اختیار بانی پی ٹی آئی کے پاس تھا‘‘
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ تمام تر سیاسی دباؤ اور قانونی رکاوٹوں کے باوجود پی ٹی آئی نے اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھا، اور سینیٹ امیدواروں کی نامزدگی میں کسی قسم کی مداخلت یا مفاہمت کا تصور بھی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ تمام فیصلے ایک واضح قیادت کے تحت کیے گئے، اور پارٹی نے جمہوری انداز میں آگے بڑھنے کی روایت کو قائم رکھا۔‘‘





