حق سے محروم شہید پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کا یوم شہداء کی تقریبات کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان

پشاور:خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید پولیس اہلکاروں کے بچوں اور خاندانوں نے صوبائی حکومت، خصوصاً وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی مسلسل نظرانداز کیے جانے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے چار اگست کو پولیس کی تمام تقریبات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

متاثرہ خاندانوں نے پشاور میں ہونے والی چار اگست کی یوم شہداء کی مرکزی تقریب جس کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ ہوں گے کے موقع پر احتجاج کا بھی اعلان کیا ۔

یہ اعلان پشاور پریس کلب میں کوہاٹ، مردان اور بنوں ریجن سے تعلق رکھنے والے شہید پولیس اہلکاروں کے بچوں نےکیا ۔

اس موقع پر دہشت گردی کا شکار ہونے والے شہید پولیس اہلکاروں کے بچوں نے ہاتھوں میں شہداء کی تصاویر اٹھا رکھی تھی اور خاموش احتجاج کر رہے تھے۔

حق سے محروم پولیس اہلکاروں کے خاندانوںکےترجمان سلمان خان نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے وطن عزیز پر اپنی جان نچھاور کی اور پاک سر زمین پر انچ انے نہیں دی لیکن ان کے بچے آج گلیوں میں خاک چھان رہے ہیں اور در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں لیکن ان کو ان کا حق دینے کو کوئی تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے آئی جی خیبر پختونخوا سے بھی رابطہ کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ وہ تو چاہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ مضبوط ہوں اور پولیس فورس اور بڑھے لیکن وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا اس طرف توجہ نہیں دے رہے۔

انہوں نے کہا کہ 1998 سے 2024 تک متذکرہ ریجنز میں کسی شہداء کے بچے کو نوکری فراہم نہیں کی گئی اور وہ اپنے حق کے لیے پولیس لائنز اور دیگر اداروں کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک گئے ہیں اور وزیراعلی نے بھی کئی مرتبہ شہداء اعلانات کیے لیکن وہ صرف اور صرف زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اور ایج ہو رہے ہیں اور کل پھر یہی بہانہ بنا کر ہمیں گھر کا راستہ دکھایا جائے گا کہ آپ کی عمر زیادہ ہو گئی ہے ۔

انہوں نے وزیراعلی خیبر پختون خواہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں اگر متذکرہ ریجن جن میں بنوں، کوہاٹ اور مردان شامل ہے میں سیٹیں نہیں ہیں تو انہیں دیگر اضلاع میں نوکریاں فراہم کیں جائیں کیونکہ ان میں ایسے شہداء بھی شامل ہیں جن کے بیٹے نہیں بیٹیاں ہیں اور اب ان کے سروں میں چاندی لگنے والی ہے لہذا ہمیں ون ٹائم ایڈجسٹ کیا جائے اگر ریگولر نہیں ہوتا اور جس کا وزیر اعلی اعلان بھی کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : نہ بچے محفوظ ہیں، نہ خواتین اور بزرگ،مولانا فضل الرحمان کا گومل راغزائی واقعے پر ردعمل

کوہاٹ ریجن کے محمد سلمان نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ آخر میں چار اگست یوم شہداء کے موقع پر پشاور صدر میں مرکزی تقریب کے موقع پر اپنے خاندانوں سمیت احتجاج کا اعلان کیا اور کہا کہ اس سلسلے میں مردان کوہاٹ اور بنوں میں ہونے والی یوم شہداء کی تقریبات کا مکمل بائیکاٹ بھی کیا جائے گا جب تک انہیں ان کا حق نہیں ملتا۔

Scroll to Top