پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے بیٹوں، قاسم اور سلیمان کو ان کی والدہ جمائما گولڈ اسمتھ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پاکستان جانے سے روک دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جمائما نے دونوں بیٹوں کو امریکا سے واپس لندن بلا لیا ہے اور انہیں فی الحال پاکستان کا سفر نہ کرنے کی سختی سے ہدایت کی ہے۔
نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز) کے مطابق جمائما کو پاکستان سے تحریک انصاف سے وابستہ چند قریبی ذرائع نے آگاہ کیا ہے کہ قاسم اور سلیمان کو پاکستانی انتظامیہ یا سیکیورٹی اداروں سے نہیں بلکہ خود ان کے قریبی رشتہ داروں، بالخصوص عمران خان کی بہنوں سے ممکنہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کی بہنوں نے ماضی میں نہ صرف جمائما کو بہو کے طور پر قبول نہیں کیا بلکہ ان کے بچوں سے بھی کوئی خاص تعلق یا ہمدردی ظاہر نہیں کی۔
ادھر، تحریک انصاف کی قیادت قاسم اور سلیمان کی جانب سے امریکا کے حالیہ دورے کے دوران پارٹی کی سرگرمیوں میں شرکت نہ کرنے اور مقامی پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ سرد رویے پر سخت مایوسی کا شکار ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق امریکی پی ٹی آئی، وہاں کی لابی اور حتیٰ کہ امریکی انتظامیہ نے بھی دونوں بیٹوں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی، جس سے پارٹی رہنماؤں کی توقعات کو دھچکا پہنچا۔
امریکا میں پی ٹی آئی کے مختلف دھڑوں نے ایک دوسرے پر اس ناکامی کا الزام لگانا شروع کر دیا ہے۔ بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قاسم اور سلیمان کی پاکستان آمد سے عمران خان کی آزادی کے لیے جاری تحریک کو نئی طاقت مل سکتی تھی، لیکن اب ان کے نہ آنے سے پارٹی میں بددلی اور مایوسی کی فضا گہری ہو رہی ہے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر مرکزی رہنماؤں کے حالیہ بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پارٹی قیادت شدید دباؤ اور تشویش میں مبتلا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی کو خدشہ ہے کہ آئندہ دنوں میں وفاقی و صوبائی اسمبلیوں کے کئی ارکان گرفتار ہو سکتے ہیں، جس سے تنظیمی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق عمران خان نے اپنی رہائی کے لیے جس سیاسی تحریک کو 5 اگست تک اپنے عروج پر پہنچانے کی حکمت عملی تیار کی تھی، وہ بھی اب غیر یقینی صورتِ حال کا شکار نظر آتی ہے۔




