تہران / کابل : ایران اور افغانستان نے غزہ کی سنگین صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
دونوں ممالک نے اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے مسلم دنیا سے ایک متحد اور مؤثر ردعمل کی اپیل کی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور افغان عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان اتوار کو ٹیلیفون پر رابطہ ہوا، جس میں غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ایرانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری جنگی جرائم اور نسل کشی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مسلم ممالک کو اس سلسلے میں فوری اور مؤثر موقف اختیار کرنا چاہیے۔
مذاکرات میں ایران اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن میں ایران کے آبی حقوق، سرحد پار تعاون، قونصلر معاملات اور افغان تارکین وطن کی واپسی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کا نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ 31 جولائی کو چین سے لانچ کیا جائے گا
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن، مشترکہ مفادات پر مبنی مذاکرات اور وسیع تر علاقائی تعاون سے ہی ممکن ہے۔
ادھر غزہ میں اسرائیلی بمباری سے حالات مزید سنگین ہو چکے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حملوں میں مزید 71 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ شدید غذائی قلت اور بھوک کے باعث شہید ہونے والوں کی تعداد 127 ہو گئی ہے، جن میں 85 بچے شامل ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔





