اسلام آباد: ملک بھر میں گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران بجلی چوری کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے قومی معیشت کو 5 ارب 78 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔
ایک تازہ آڈٹ رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ بجلی چوری کے بڑھتے رجحان نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پشاور، حیدرآباد اور لاہور کے ریجنز بجلی چوری میں سب سے آگے ہیں۔ پشاور الیکٹرک کمپنی میں ایک ارب 84 کروڑ، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں ایک ارب 61 کروڑ اور لاہور الیکٹرک کمپنی میں ایک ارب 35 کروڑ روپے کی بجلی چوری ہوئی ہے۔
اسلام آباد میں بھی 7 کروڑ 46 لاکھ روپے کی بجلی چوری کا انکشاف ہوا ہے جبکہ فیصل آباد میں 56 کروڑ، ملتان میں 16 کروڑ 20 لاکھ اور کوئٹہ ریجن میں 12 کروڑ 86 لاکھ روپے کی چوری ہوئی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق دو سال کے دوران تقریباً 2 لاکھ 62 ہزار 740 صارفین نے مختلف طریقوں جیسے ڈائریکٹ کنکشن، کنڈے، میٹر ٹیمپرنگ اور جعلی میٹرز کے ذریعے بجلی چوری کی۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کا نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ 31 جولائی کو چین سے لانچ کیا جائے گا
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں چوری کی روک تھام اور قانونی کارروائی میں ناکام رہی ہیں، اگرچہ انہوں نے چوری میں ملوث افراد سے واجبات کی وصولی کی یقین دہانی کرائی ہے۔





