پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے پولیس کے سامنے سرنڈر کرنے سے انکار کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، حماد اظہر نے اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ وہ براہِ راست گرفتاری دینے کے بجائے عدالت سے رجوع کریں گے۔
نجی ٹی وی چینل (آج نیوز)کے مطابق حماد اظہر اور ان کی قانونی ٹیم نے ملک بھر میں ان کے خلاف درج 50 سے زائد مقدمات کا ریکارڈ اکٹھا کر لیا ہے، جن میں لاہور، فیصل آباد اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں درج مقدمات شامل ہیں۔ ان مقدمات میں انہیں کئی بار اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے اور وہ سیکیورٹی اداروں کو مسلسل مطلوب رہے ہیں۔
حماد اظہر نے حالیہ دنوں والد کے انتقال کے بعد منظر عام پر آ کر قانونی جنگ لڑنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم تازہ پیش رفت کے مطابق انہوں نے خود کو پولیس کے حوالے کرنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی قانونی ٹیم نے پشاور ہائیکورٹ میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، اور امکان ہے کہ وہ جلد عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔
یاد رہے کہ حماد اظہر 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے بعد سے روپوش تھے، اور ان کے خلاف متعدد دہشتگردی، اشتعال انگیزی اور نقصِ امن کے مقدمات درج کیے گئے تھے۔ حکام کی جانب سے ان کی گرفتاری کے لیے کئی بار چھاپے مارے گئے، تاہم وہ قانون کی گرفت سے باہر رہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حماد اظہر کا یہ اقدام نہ صرف ان کے سیاسی مستقبل کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے بلکہ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے لیے بھی ایک قانونی راستے کی مثال بن سکتا ہے، جو اسی نوعیت کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔





