علیمہ خان پر انڈہ پھیکنے کا واقعہ، چیئرمین پی ٹی آئی کا سخت ردعمل سامنے آگیا

عدالتی فیصلوں سے جمہوریت کو دھچکا لگ رہا ہے،بیرسٹر گوہر کا فیصلوں پر سخت ردعمل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حالیہ عدالتی فیصلوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف تین دن میں پارٹی رہنماؤں کو تین الگ الگ مقدمات میں 45 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں، جو جمہوری عمل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’’یہ جو فیصلے آرہے ہیں، ان سے جمہوریت تباہ ہو جائے گی۔ بانی چیئرمین عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کی اہلیہ کو سزا سنائی گئی، لیکن ہم نے ان تمام حالات کے باوجود ریاست کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔‘‘

انہوں نے فیصل آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’آج قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز کو سزائیں سنا دی گئیں، پارلیمانی لیڈر زرتاج گل کو بھی دس سال قید کی سزا دے دی گئی۔ یہ صرف شخصیات کو نہیں بلکہ پارلیمان اور جمہوریت کو سزا دینے کے مترادف ہے۔‘‘

بیرسٹر گوہر نے چیف جسٹس سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری عدالتوں میں ٹرائل رات 2 بجے تک چل رہے ہیں، یہ انصاف کا نہیں، دباؤ کا ماحول ہے۔ جہاں ایک سے زائد ایف آئی آرز ہوں، وہاں عام طور پر دوسرے کیسز روک دیے جاتے ہیں لیکن پی ٹی آئی کے خلاف مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’عدلیہ کو ہمیشہ امید کی کرن سمجھا گیا لیکن موجودہ حالات میں عوام کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔ اب بھی وقت ہے، عدالتی نظام اور جمہوری اقدار کو بچایا جائے۔‘‘

پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے حالیہ عدالتی فیصلوں کو سیاسی انتقام اور جمہوری نظام پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پارٹی نے آئندہ کی قانونی و سیاسی حکمت عملی پر مشاورت شروع کر دی ہے۔

Scroll to Top