یو اے ای کی نئی ویزا پالیسی،غیر ملکیوں کےلیے سہولتوں میں اضافہ

دنیا بھر کے غیر ملکیوں کا دوسرا گھرمتحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں غیر ملکیوں کی تعداد 9.06 ملین تک جا پہنچی ہے، جو اسے دنیا کے 200 سے زائد ممالک کے افراد کا مسکن بنا چکا ہے۔

رہائشی ویزا پالیسیوں میں نرمی اور سول قوانین میں اصلاحات نے اس خطے کو تارکینِ وطن کے لیے ایک پرکشش مقام میں بدل دیا ہے۔

یہ اصلاحات نہ صرف روزگار کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہیں بلکہ یہاں معیارِ زندگی بھی نمایاں حد تک بہتر ہوا ہے،اسی وجہ سے یو اے ای میں ہر سال ہزاروں افراد مستقل رہائش کے خواب کے ساتھ قدم رکھتے ہیں۔

یو اے ای مختلف قسم کے ویزے جاری کرتا ہے جن میں نمایاں ترین گرین ویزا، گولڈن ویزا اور ورک ویزا ہیں۔ ان ویزوں کے ذریعے غیر ملکی نہ صرف قانونی طور پر کام اور رہائش حاصل کرتے ہیں بلکہ اپنے اہل خانہ کو بھی ساتھ رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

گرین ویزا ایسے ہنر مند افراد، سرمایہ کاروں، فری لانسرز اور طلبا کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جو اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس ویزے کے تحت پانچ سالہ رہائش ممکن ہے وہ بھی کسی مقامی کفیل یا کمپنی کے بغیر۔درخواست گزار کو وزارتِ انسانی وسائل و اماراتیائزیشن سے فری لانسر پرمٹ حاصل کرنا ہوتا ہے اور گزشتہ دو سال کی آمدنی کم از کم 360,000 درہم ثابت کرنا لازمی ہے۔

ملازمت پیشہ افراد کے لیےورک ویزا عام طور پر دو سال کے لیے جاری کیا جاتا ہے اور اس کا اجرا کسی کمپنی یا ادارے کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ یہ ویزا نجی شعبے، سرکاری محکموں یا فری زونز میں کام کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔

یواے ای حکومت طویل المدتی سہولت گولڈن ویزاکے تحت غیر ملکیوں کو بغیر کسی کفالت کےپانچ یا دس سال کے لیے رہائش، ملازمت، تعلیم اور کاروبار کی سہولت فراہم کرتا ہے،اس ویزے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ حاملین اپنے اہلِ خانہ کو بھی سپانسر کر سکتے ہیں، خواہ وہ بالغ ہوں یا بچے۔درخواست کے لیے پاسپورٹ کی نقل، تعلیمی اسناد، اور منظور شدہ ملازمت یا کاروباری معاہدہ درکار ہوتا ہے۔

گھریلو ملازمین جیسے خانساماں، نرس، ڈرائیورز وغیرہ کے لیے مخصوص ویزا ضوابط موجود ہیں۔ اس ویزا کے لیے ضروری ہے کہ آجر کی ماہانہ آمدنی کم از کم 25,000 درہم ہو۔ اگر گھریلو ملازم بطور ڈرائیور کام کرے تو آجر کے نام دو گاڑیاں رجسٹرڈ ہونی چاہیے۔

خلیج ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، حکومت نے نہ صرف ویزا نظام کو سہل بنایا بلکہ کاروباری ماحول اور زندگی کے معیار میں بھی نمایاں بہتری لائی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج یو اے ای دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں لاکھوں غیر ملکی اعتماد اور سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سینیٹ ضمنی الیکشن: مشال یوسفزئی کامیاب، غیر سرکاری نتائج

یہ اقدامات یو اے ای کو عالمی سطح پر ایک ترقی پسند اور کشادہ دل ملک کے طور پر اجاگر کرتے ہیں جہاں لوگ صرف روزگار ہی نہیں بلکہ ایک بہتر زندگی کی امید لے کر آتے ہیں۔

Scroll to Top