پشاور(کامران علی شاہ) جوڈیشل کمیشن آف پاکستان سے سینئر پِیونی جج کا نام نکالنے کے اقدام کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
یہ آئینی درخواست زرک شاہ نے ایڈووکیٹ علی گوہر درانی کی وساطت سے دائر کی ہے جس میں وفاقی حکومت اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 175-A کی کلاز 5، پیراگراف 2 کے تحت 26ویں آئینی ترمیم سے قبل سینئر پِیونی جج کو جوڈیشل کمیشن کا رکن قرار دیا گیا تھا تاہم 26ویں ترمیم کے بعد سینئر پِیونی جج کو ہائیکورٹ کے آئینی بنچ کا سربراہ مقرر کیا گیا اور جوڈیشل کمیشن نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے سینئر پِیونی جج کو کمیشن کی رکنیت سے خارج کر دیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ میں تاحال کوئی آئینی بنچ قائم نہیں کیا گیا لہٰذا جب تک آئینی بنچ تشکیل نہیں پاتا تب تک سینئر پِیونی جج کی کمیشن میں رکنیت برقرار رہنی چاہیے۔
درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ جوڈیشل کمیشن جو سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے ججز کی تعیناتی کا ذمہ دار ادارہ ہے اس میں سینئر پِیونی جج کی شمولیت آئینی تقاضا ہے اور 26ویں ترمیم کے باوجود ان کی رکنیت اس وقت تک ختم نہیں کی جا سکتی جب تک متعلقہ عدالتی ڈھانچے میں مطلوبہ تبدیلیاں عمل میں نہ آ جائیں۔
یہ بھی پڑھیں : تیاری شروع کریں! حکومت نے نوجوانوں کیلئے 1000 ملازمتوں کا بڑا منصوبہ تیار کر لیا
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے کر سینئر پِیونی جج کی رکنیت بحال کی جائے۔





