پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ملک گیر احتجاج کے دوران گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے فوکل پرسن اظہر مشوانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
قومی اخبار (روزنامہ پاکستان ویب سائٹ)کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے 5 اگست کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد مختلف شہروں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی اور پولیس نے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے لاہور کے نواحی علاقے سے معین قریشی کو گرفتار کیا، ان کے ہمراہ 6 دیگر ارکان اسمبلی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد بانی جماعت کی رہائی، عدلیہ کی آزادی اور سیاسی انتقام کے خاتمے کے لیے آواز اٹھانا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے مظاہروں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ کے مختلف علاقوں سے بھی پی ٹی آئی کارکنان اور مقامی رہنماؤں کی گرفتاریوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ متعدد شہروں میں دفعہ 144 نافذ ہے اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔
پارٹی رہنماؤں نے ان گرفتاریوں کو جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کارکنان سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔





