واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس سے تیل خریدنے کے باعث چین پر جلد مزید سخت تجارتی ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں، جبکہ بھارت پر ٹیرف پہلے ہی 50 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین کی روس سے توانائی کی خریداری ناقابل قبول ہے اور اس کے نتیجے میں چین پر بھی اضافی محصولات لگائی جا سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ روس پر ٹیرف کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا، تاہم روسی حکام سے بات چیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور جلد اعلیٰ سطح کی ملاقات متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا مائیکروچپس اور سیمی کنڈکٹرز کی درآمدات پر تقریباً 100 فیصد ٹیرف عائد کرے گا تاکہ ملکی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے بھارت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت روس سے تیل خرید رہا ہے اور اس طرح وہ یوکرین جنگ میں روسی مشینری کو ایندھن فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت پر مزید 25 فیصد ٹیرف لگانے کے بعد مجموعی امریکی ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو ضروری اقدام تھا۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ پر اسرائیلی حملے، مزید 44 فلسطینی شہید، اقوام متحدہ نے شدید بحران کی نشاندہی کر دی
وائٹ ہاؤس کے مطابق بھارت سے درآمدات پر اضافی ڈیوٹی مناسب اور ناگزیر ہے کیونکہ بھارت روس سے بلاواسطہ اور بالواسطہ تیل درآمد کر رہا ہے۔
ادھر، ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ جوہری پروگرام شروع کیا تو امریکا حملے سے گریز نہیں کرے گا۔
دوسری جانب بدھ کو امریکی صدر کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی، جسے کریملن نے مفید اور تعمیری قرار دیا ہے۔





