پشاور ہائیکورٹ نے گندم سکینڈل میں گرفتار افسران کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں

پشاور ہائی کورٹ نے گندم سکینڈل کیس میں گرفتار سٹوریج آفیسر ارشد اور سابقہ ملازم طلا محمد کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزمان کی درخواستیں خارج کر دیں۔

قومی اخبار(روزنامہ پاکستان ویب سائٹ)کےمطابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد انعام یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ارشد اضاخیل میں بطور سٹوریج آفیسر تعینات ہے جبکہ طلا محمد محکمہ خوراک کا سابقہ ملازم ہے۔ دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے اضاخیل سٹوریج سے 1730 میٹرک ٹن گندم، جو کہ تقریباً 3300 بوریاں بنتی ہیں، غائب کیں۔

اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا نے اس بڑے مالیاتی سکینڈل کی تحقیقات کے بعد دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا اور انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا۔ اینٹی کرپشن کورٹ نے بھی ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد ملزمان نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

عدالت عالیہ نے تمام شواہد اور دلائل کا بغور جائزہ لینے کے بعد ضمانت کی درخواستیں ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے انہیں خارج کر دیا۔

Scroll to Top