ایران نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے تحت قفقاز میں مجوزہ ٹرمپ راہداری منصوبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی کسی بھی جغرافیائی تبدیلی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اپنی شمال مغربی سرحدوں کے قریب کسی بھی غیر ملکی راہداری کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ کوریڈور سے خطے میں جغرافیائی تبدیلی کی کوششیں ناقابل قبول ہیں، ایسی کوئی بھی کارروائی علاقے میں استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
ایرانی حکام نے کہا ہے کہ بیرونی مداخلت سے پورے خطے کی سیکیورٹی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اسی تناظر میں ایران نے اپنی شمال مغربی سرحدی علاقوں میں فوجی مشقیں کر کے اپنے دفاعی عزائم کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے مشیرِ اعلیٰ علی اکبر ولایتی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی سرحدوں کے قریب کسی بھی جغرافیائی تبدیلی کو قبول نہیں کرے گا راہداری ٹرمپ کی ملکیت نہیں ہے اور یہ اس کے کرائے کے فوجیوں کا قبرستان بنے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاسپورٹ،اپنا جھنڈا، کرنسی،یورپ میں نیا ملک قائم، 20 سالہ نوجوان صدر بن گیا
خبرایجنسی کے مطابق آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدے کے تحت ایک بین الاقوامی راہداری کے قیام کا منصوبہ طے پایا ہے جسے ٹرمپ راہداری برائے امن و خوشحالی کا نام دیا گیا ہے، اس راہداری کے ذریعے آرمینیا، آذربائیجان اور ترکی کو ملانے کی کوشش کی جائے گی۔





