سابق وفاقی وزیر اور سینئر سیاستدان فواد چودھری کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں تحریک انصاف کیلئے انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی حقیقی فائدہ نظر نہیں آتا، بظاہر کچھ افراد صرف ٹکٹوں کی تقسیم سے مالی مفاد حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
فواد چودھری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے خود کو تنہائی کا شکار بنا لیا ہے نہ صرف حکومت سے محاذ آرائی جاری ہے بلکہ اپوزیشن جماعتوں سے بھی تعلقات کشیدہ ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ پارٹی چیئرمین کی عوامی مقبولیت بدستور قائم ہے بلکہ اس میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے لیکن تنظیمی سطح پر حکمت عملی کی کمی موجود ہے۔
فواد چودھری کا کہنا ہے کہ احتجاج ایک مؤثر سیاسی ہتھیار ہو سکتا ہے مگر پی ٹی آئی کی تحریک میں کسی واضح مقصد یا اسٹریٹجی کا فقدان ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے نہ صرف قومی سیاسی دھارے سے خود کو علیحدہ کیا ہےبلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی کوئی قابل ذکر حمایت موجود نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت ان کے جرات مندانہ فیصلوں کا نتیجہ ہے مگر دیگر قیادت اس سطح کی سیاسی بصیرت یا فیصلے لینے کی اہلیت نہیں رکھتی۔
فواد چودھری کا مزید کہنا تھا کہ اصل غلطی اسمبلیاں تحلیل کرنا نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ روابط ختم کرنا تھی، انتخابات کے امکانات موجود تھے لیکن پی ٹی آئی نے موقع ضائع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: این اے 129 ضمنی الیکشن ، آر او آفس نے حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی واپس کر دیئے
فواد چودھری نے مزید کہا کہ اب جو الیکشن ہونے جا رہے ہیں ان میں حصہ لینے سے پارٹی کو کوئی خاص سیاسی فائدہ حاصل ہونے کی توقع نہیں بلکہ چند افراد ٹکٹوں کی فروخت کے ذریعے پیسے بنانے کی کوشش میں لگے ہیں۔





