22اپریل سے 10مئی تک کے واقعات کو کتاب میں محفوظ کرنا ضروری تھا، مرتضی سولنگی

سینئر صحافی و مصنف مرتضی سولنگی نے کہاہےکہ22 اپریل سے لے کر رہا ہے 10 مئی تک اتنی تیزی کے ساتھ واقعات ہوئے ہیں کہ لوگ بھول جائیں گے، تو ایک ریفرنس بک کی بھی ضرورت تھی تو ہم نے اس ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے ۔

عرب خبر رساں ادارے کو اپنی کتاب (وہ جنگ جس نے سب کچھ بدل دیا) کی تقریب رونمائی کے دوران بتایا کہ ہمارے ہاں پاکستان میں خاص طور پر یہ رجحان ہے کہ پاکستان میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے بارے میں کتاب نیویارک میں لندن میں لکھی جاتی ہے، ایک تو اس رجحان کو توڑنا ضروری ہے کہ پاکستان میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے بارے میں پاکستانیوں کو خود لکھنا چاہیے۔

دوسرا یہ ہے کہ جس دور میں ہم ہیں جس میں لوگوں کا جو ٹینشن سپین 30 سیکنڈ کے ویڈیو کلپ تک محدود ہو گیا ہے ہمیں یہ یاد نہیں رہتا کہ صبح کیا ہوا تھا ،کل ہم نے کون سے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔

مرتضی سولنگی نے بتایا کہ ہم نے اس کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جو بھارت کی جو ہندوتوا ائیڈیالوجی ہےکس طرح سے ذمہ دار ہیں یہ جو حالیہ معرکہ ہوا ہے اس کے لیے اور مستقبل میں بھی ذمہ دار ہو سکتی ہےکیونکہ یہ جو ائیڈیالوجی ہے یہ ایک طرح سے نظریہ ہے عدم استحکام کا اور جنگوں کا۔

انہوں نے کہاکہ جو ہم نے حالات کا تجزیہ کیا ہے جو حقائق پیش کیے ہیں جو ماہرین سے بات کی ہے، اس میں اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس کا قوی امکان ہے کہ اگلے دو تین مہینوں کے اندر بھارت ایک اور کوئی مہم جوئی کریں اور ابھی اگر نہیں بھی کی بین الاقوامی اور علاقائی حالات اور اپنے حالات کی وجہ سے تو جس طریقے سے نفرت جو ان کی سیاست کی بنیاد ہے اب الیکشنز کی بنیاد بن گئی ہے ،بھارت میں اس کے امکانات بالکل موجود ہیں کہ اگلے الیکشن سے پہلے وہ ضرور کوئی اس طرح کی حرکت کریں گے۔

Scroll to Top