عوام کو چینی 200 روپے کلو ہی ملے گی، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں چینی کی درآمد، قیمتوں اور درآمدی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے۔ اجلاس کی صدارت کنوینئر کمیٹی عاطف خان نے کی۔

ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے نمائندے نے بتایا کہ چینی کی درآمد کے مختلف معاہدوں کے مطابق فی ٹن چینی کی اوسط لاگت 559 ڈالر بنتی ہے، جو پاکستانی روپوں میں فی کلو تقریباً 168 روپے 50 پیسے پڑتی ہے۔ اس پر کمیٹی کے کنوینئر عاطف خان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ اس حساب سے تو عوام کو چینی 200 روپے فی کلو سے کم نہیں ملے گی۔

ممبر ایف بی آر ڈاکٹر حامد عتیق نے تجویز دی کہ موجودہ درآمدی طریقہ کار میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت چینی کی شپنگ لاگت 60 ڈالر فی ٹن ہے، جبکہ ماضی میں بھارت سے درآمد کی صورت میں یہی لاگت صرف 10 ڈالر پڑتی تھی۔ انہوں نے سمندری راستوں سے درآمد کی اجازت دینے کی تجویز بھی پیش کی۔

اجلاس کے دوران رکن کمیٹی اسامہ احمد نے سوال اٹھایا کہ جب ملک میں گندم وافر مقدار میں موجود ہے اور اس کی برآمد پر پابندی ہے، تو چینی کی برآمد کی اجازت کیسے دی گئی؟ اس پر عاطف خان نے کہا کہ جب تک شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ نہیں کیا جاتا، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق نئی شوگر ملز کے قیام سے مسابقت بڑھے گی اور قیمتوں میں کمی آئے گی۔

کمیٹی کے کنوینئر نے شوگر ملز کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جب چینی کی قیمت بڑھی تو ملز نے کہا کہ یہ مارکیٹ کا فیصلہ ہے، مگر پہلے یہی ملز قیمت 140 روپے تک محدود رکھنے کی یقین دہانی کروا رہی تھیں۔ اگر نرخ ان کے اختیار میں نہیں تھے تو ایسی یقین دہانی کیوں کرائی گئی؟

ایف بی آر کے نمائندے نے مزید بتایا کہ اس سال 60 ملین ٹن گنے کی پیداوار ہوئی، جس سے صرف 6.9 فیصد چینی حاصل ہو سکی حالانکہ اندازہ تھا کہ کم از کم 10 فیصد چینی حاصل کی جائے گی۔

مرزا اختیار بیگ نے مطالبہ کیا کہ چینی کی درآمد و برآمد کے معاملات کا بغور جائزہ لیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ بے ضابطگیاں دانستہ کی گئیں یا محض انتظامی کوتاہی تھی۔

کمیٹی نے شوگر ملز اور ان کے مالکان کی مکمل تفصیلات دوبارہ طلب کر لیں اور معاملے پر آئندہ اجلاس میں مزید بحث کا عندیہ دیا۔

Scroll to Top