اوٹاوا: کینیڈا نے امریکا سے درآمد کی جانے والی کئی مصنوعات پر عائد جوابی ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا اطلاق یکم ستمبر 2025 سے ہوگا۔ تاہم آٹو، اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر 25 فیصد محصولات برقرار رہیں گی۔
وزیراعظم مارک کارنی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک سطح پر تعاون جاری رکھے گا اور ہماری توجہ ایسے شعبوں پر ہے جہاں دو طرفہ مفادات مضبوط کیے جا سکیں۔
یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب وزیراعظم مارک کارنی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا، جس میں دو طرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون پر بات چیت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق، کینیڈا نے اس سے قبل امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیرف کے جواب میں تقریباً 30 ارب کینیڈین ڈالر (یعنی 21.7 ارب امریکی ڈالر) مالیت کی مختلف امریکی مصنوعات پر 25 فیصد تک کا جوابی ٹیکس عائد کیا تھا، جس میں واشنگ مشینوں سمیت متعدد اشیاء شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا ریلیف، نیویارک اپیل کورٹ نے دھوکہ دہی کی سزا کالعدم قرار دے دی
وائٹ ہاؤس کے حکام نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی میڈیا کو بتایا کہ کینیڈا کو یہ قدم بہت پہلے اٹھانا چاہیے تھا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔





