علیمہ خان کے بیٹے کی گرفتاری پر پولیس کے شواہد کا انتظار کریں، طلال چوہدری

اسلام آباد: وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ 9 مئی کے مقدمات انتہائی پیچیدہ نوعیت کے ہیں اور علیمہ خان کے بیٹے کی گرفتاری پر کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے پولیس کی جانب سے شواہد کا انتظار ضروری ہے۔

ایک بیان میں طلال چوہدری نے وضاحت کی کہ پولیس نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ثبوت اکٹھے کرنے کے بعد علیمہ خان کے بیٹے کو گرفتار کیا، اور 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بعض حلقے گرفتاری میں تاخیر کا تاثر دے رہے ہیں، لیکن درحقیقت پولیس نے کارروائی ثبوتوں کی بنیاد پر کی۔ تاہم، یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ شواہد جمع کرنے میں وقت لگا جس کی وجہ سے پولیس اُن تک دیر سے پہنچی۔

وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ اگر علیمہ خان کے بیٹے 9 مئی کے مظاہروں میں موجود نہیں تھے تو ان پر الزام نہیں آنا چاہیے، لیکن اگر موجودگی ثابت ہوئی تو قانونی کارروائی ضرور ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت سے بات چیت کا بڑا موقع، مگر پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات بھی سر اٹھانے لگے

ان کا مزید کہنا تھا کہ کئی افراد کو ان مقدمات میں پہلے سزا ہو سکتی تھی، مگر قانونی تقاضے اور شواہد کی نوعیت کے باعث کیسز طویل ہوئے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور ہر شخص کو برابر کا قانونی سلوک فراہم کیا جائے گا، چاہے وہ کسی بھی سیاسی یا سماجی حیثیت کا حامل ہو۔

Scroll to Top