پی ڈی ایم اے ترجمان نے پختونخوا سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیچھے چھپے حقائق کھول دیے

خیبر پختونخوا : خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں حالیہ سیلاب سے شدید تباہی ہوئی ہے، جس میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر رہا۔

پی ڈی ایم اے (پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) کے ترجمان انور شہزاد کے مطابق صوبے کے 9 اضلاع سیلاب سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں، جن میں بونیر سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔

ترجمان کے مطابق بونیر میں اب تک 237 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر خیبرپختونخوا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 406 تک پہنچ چکی ہے۔ کئی اضلاع میں ریسکیو آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیے گئے ہیں، تاہم بونیر میں تاحال لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

انور شہزاد نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم اے کے طریقہ کار کی وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے تین مراحل میں کام کرتا ہے:

1. پری ڈیزاسٹر مرحلہ:
اس مرحلے میں قدرتی آفات سے پہلے خطرے کا شکار علاقوں کی نشاندہی کی جاتی ہے اور ان علاقوں میں بروقت حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ مساجد، اسکولوں، کالجوں، گلیوں اور محلوں میں عوامی آگاہی مہمات چلائی جاتی ہیں تاکہ عوام ممکنہ خطرات سے باخبر رہیں۔

2. دورانِ آفت مرحلہ:
جب قدرتی آفت آ جاتی ہے، تو پی ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر فوری ریسکیو آپریشن کا آغاز کرتا ہے۔

متاثرہ افراد کے لیے امدادی کیمپ قائم کیے جاتے ہیں، جہاں ان کو خوراک، رہائش، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جاتی ہیں۔ جن شہریوں کے مکانات متاثر ہوتے ہیں، انہیں مالی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔
3. بعد از آفت مرحلہ:
اس مرحلے میں قدرتی آفت کے گزرنے کے بعد بحالی اور تعمیرِ نو پر توجہ دی جاتی ہے۔ پی ڈی ایم اے اور متعلقہ ادارے درج ذیل اقدامات کرتے ہیں:

متاثرہ علاقوں میں جانی و مالی نقصانات کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس میں مکانات، فصلوں، انفراسٹرکچر (سڑکیں، پل، اسکول، اسپتال وغیرہ) اور دیگر اثاثوں کی تباہی کا اندازہ شامل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بونیر میں سکھ برادری کا واحد شمشان گھاٹ سیلاب کی نذر

متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد، کھانے پینے کی اشیاء، طبی سہولیات، کپڑے اور عارضی رہائش فراہم کی جاتی ہے۔ جن کے مکانات مکمل تباہ ہو چکے ہوں، انہیں ازالہ دینے کے لیے حکومتی امدادی پیکیج دیے جاتے ہیں۔

عوامی خدمات (پانی، بجلی، سڑکیں، اسکول، اسپتال) کو دوبارہ فعال کیا جاتا ہے۔ نقصانات کی نوعیت کے مطابق مختصر اور طویل مدتی بحالی منصوبے ترتیب دیے جاتے ہیں۔

حکومت اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں مستقل بحالی کے لیے انفراسٹرکچر کی دوبارہ تعمیر کرتے ہیں، تاکہ مستقبل میں ایسے نقصانات سے بچاؤ ممکن ہو۔

شدید متاثرہ افراد، خصوصاً بچوں اور خواتین کے لیے ذہنی صحت و بحالی کے پروگرامز بھی شامل کیے جاتے ہیں تاکہ وہ صدمے سے باہر آ سکیں۔

ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مسلسل امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ عوامی تعاون اور بروقت اقدامات کے ذریعے مزید نقصان سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Scroll to Top