چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ آج انسانیت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے، جہاں اسے جنگ یا امن میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ وہ جنگ عظیم دوم میں جاپان پر چین کی فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر بیجنگ کے تاریخی تیانمن اسکوائر پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
اس بین الاقوامی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت 26 ممالک کے عالمی رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں روس، شمالی کوریا، ایران اور دیگر اہم ممالک کے سربراہان شامل تھے۔
امن کا پیغام، توسیع پسندی سے انکارشی جن پنگ نے کہا’’چینی عوام ہمیشہ امن کے حامی رہے ہیں۔ ہم تاریخ کے درست رخ پر کھڑے ہیں اور ہماری ترقی اور خوشحالی کو روکا نہیں جا سکتا۔
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ماضی کی تلخ یادوں سے سبق سیکھے اور ایسے عالمی نظام کی تشکیل پر زور دے جو انصاف، مساوات اور پرامن بقائے باہمی پر مبنی ہو،صدر شی جن پنگ نے واضح کیا کہ ہم چاہے جتنے بھی طاقتور ہو جائیں، کبھی توسیع پسندانہ راستہ اختیار نہیں کریں گے۔‘‘
جدید فوجی طاقت کی نمائش تقریب کے دوران ایک شاندار فوجی پریڈ کا اہتمام کیا گیا جس میں چین کی جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کی نمائش کی گئی۔ اس میں ہائپرسونک میزائلز، ایٹمی ہتھیاروں اور دیگر جدید عسکری ساز و سامان کا مظاہرہ کیا گیا، جس نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔
عالمی رہنماؤں کی موجودگی تقریب میں روسی صدر ولادیمر پیوٹن، شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی موجودگی کو چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے سفارتی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی ردعمل،ٹرمپ کا طنزیہ بیاندوسری جانب، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ’’پیوٹن اور کم جونگ اُن کی میزبانی کرنا کوئی چیلنج نہیں، چین کو چاہیے کہ وہ دوسری جنگ عظیم میں بیرونی حملہ آوروں کو شکست دینے میں امریکی مدد کا اعتراف کرے۔‘‘
ٹرمپ نے مزید طنز کرتے ہوئے کہا’’پیوٹن اور کم جونگ کو میری طرف سے امریکا کے خلاف سازش پر نیک خواہشات دیں۔‘‘





