خیبر پختونخوا حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے سرکاری کالجز میں بی ایس (چار سالہ) پروگرام ختم کر کے اس کی جگہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق یہ فیصلہ طلبہ کی کم دلچسپی اور مارکیٹ تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل (ہم نیوز )کے مطابق محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سرکاری کالجز میں بی ایس پروگرام کے تحت پیش کیے جانے والے متعدد مضامین کو غیر ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر 36 کالجز میں مختلف مضامین میں جاری بی ایس پروگرامز کو ختم کر دیا گیا ہے۔
بند کیے جانے والے پروگرامز کی فہرست بھی جاری کر دی گئی ہے، جن میں پشتو، اردو، پولیٹیکل سائنس، پاک اسٹڈی اور دیگر غیر تکنیکی مضامین شامل ہیں۔
محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ بی ایس پروگرام میں داخلوں کی شرح کم جبکہ ڈراپ آؤٹ ریٹ (تعلیم ادھوری چھوڑنے والے طلبہ) تشویش ناک حد تک زیادہ ہے، جس کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق نئے پروگرامز میں ان مضامین کو شامل کیا جائے گا جو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں اور طلبہ کو عملی زندگی میں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کریں۔
ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام ایک دو سالہ مختصر المدتی ڈگری ہوگی، جو طلبہ کو جلد از جلد تعلیم مکمل کرنے اور روزگار کی دنیا میں داخل ہونے کا موقع دے گی۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر نئے پروگرامز کو مناسب طریقے سے ڈیزائن کیا جائے تو یہ فیصلہ طلبہ کے لیے فائدہ مند اور وقت کی ضرورت ثابت ہو سکتا ہے۔
ابتدائی طور پر اس فیصلے پر مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ ماہرین تعلیم نے بی ایس پروگرام ختم کرنے کو تعلیمی معیار پر اثرانداز ہونے والا قدم قرار دیا ہے، جب کہ بعض نے مارکیٹ سے جُڑے پروگرامز متعارف کرانے کو وقت کی اہم ضرورت کہا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کا یہ فیصلہ تعلیمی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم دینا ہے، تاہم اس کے اثرات، فوائد اور نقصانات آنے والے وقت میں واضح ہوں گے۔





