بونیر: وزیرِاعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران، اور مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے خیبرپختونخوا کے سب سے زیادہ متاثر ضلع بونیر کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین میں امدادی چیک تقسیم کیے۔
اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی طلحہٰ برکی، ڈپٹی کمشنر بونیر کاشف قیوم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر وسیم، اے ڈی وی ریلیف اکرم شاہ، ڈی پی او بونیر سعود خان، صدر مسلم لیگ (ن) بونیر سالار خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام اور مسلم لیگ (ن) کی ضلعی قیادت بھی موجود تھی۔
وفاقی وزیر نے سیلاب سے جاں بحق افراد کے ورثا سے ملاقات اور تعزیت کی، اور انہیں مالی امداد کے چیک پیش کیے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف خود سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
انجینئر امیر مقام کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے پانچ اضلاع شدید سیلاب سے متاثر ہوئے جن میں سب سے زیادہ نقصان بونیر کو پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے پورا ملک دکھی ہے اور وزیر اعظم کی مکمل ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف خود بونیر آ کر متاثرین سے ملے،ان کے نقصانات پر تعزیت کی اور امداد کی یقین دہانی کروائی جس کا عملی مظاہرہ آج بھی جاری ہے۔
انہوں نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے بونیر آ کر متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ پاک فوج نے بھی ریلیف آپریشن میں بھرپور کردار ادا کیا۔
انجینئر امیر مقام نے کہا کہ قدرتی آفات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، اس مشکل وقت میں تمام اداروں، نجی تنظیموں اور شہریوں نے اپنا کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہم اس کڑے وقت میں عوام کی خدمت کے لیے نکلے ہیں۔ یہ خدمت سیاست سے بالا تر ہے۔ جس دن سے سیلاب آیا میں خود فیلڈ میں موجود ہوں۔
وفاقی وزیر کے مطابق حالیہ کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں بشمول صوابی، شانگلہ، بونیر، سوات، جنوبی وزیرستان اور مانسہرہ میں 350 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب میں بھی وزیراعظم شہباز شریف خود گلگت بلتستان، بلوچستان، خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں گئے متاثرین سے ملے اور ریلیف فراہم کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ سیلاب کے دوران بھی وزیراعظم مسلسل امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے کاموں کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ہدایت دی ہے کہ وفاقی حکومت کے تمام وسائل کو بروئے کار لا کر بجلی اور سڑکوں کی فوری بحالی ممکن بنائی جائے،این ایچ اے اور این ڈی ایم اے کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت دی گئی ہے۔
امیر مقام نے کہا کہ سیلاب متاثرین خود کو تنہا نہ سمجھیں وفاقی حکومت ان کی مکمل بحالی تک ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ہر متاثرہ فرد، گھر، زراعت، کاروبار، اور ٹرانسپورٹ سے متعلق نقصانات کا مکمل ڈیٹا اکٹھا کر کے وفاقی حکومت کو فراہم کیا جائے۔
پنجاب میں سیلاب سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ان کی ٹیم دن رات متاثرین کی مدد کر رہے ہیں جس پر وہ داد کی مستحق ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ قدرتی آفات اللہ کی طرف سے آتی ہیں مگر ہم سب کی ذمے داری ہے کہ متاثرین کی مشکلات کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
انجینئر امیر مقام نے حالیہ سیلاب کو 2005 کے زلزلے، 2010 اور 2022 کے سیلابوں کے بعد ایک بڑا قدرتی سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ہماری قوم کو کسی آزمائش کا سامنا ہوا، چاہے وہ قدرتی آفات ہوں یا کوئی اور چیلنج، ہم نے ہمیشہ اتحاد اور حوصلے سے مقابلہ کیا۔
اس سے قبل، ڈپٹی کمشنر بونیر نے وفاقی وزیر کو ریلیف آپریشن سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
اس موقع پر این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور دیگر وفاقی محکموں کے اعلیٰ حکام کے علاوہ مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت بھی موجود تھی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا حکومت کا افغانستان کے زلزلہ متاثرین کیلئے مذید امداد کا اعلان
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سیلاب کے بعد انجینئر امیر مقام نے گلگت بلتستان سمیت تمام متاثرہ اضلاع کا دورہ کیا، متاثرین سے ملاقات کی، جاں بحق افراد کے ورثا سے تعزیت کی اور امدادی چیکس تقسیم کیے۔





