ڈیٹا لیکس کا معاملہ: پی ٹی اے کا وضاحتی بیان، وزیر داخلہ کے حکم پر تحقیقاتی کمیٹی قائم

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے حالیہ مبینہ ڈیٹا لیکس پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ موبائل صارفین کا ڈیٹا صرف لائسنس یافتہ ٹیلی کام کمپنیوں کے پاس محفوظ ہے اور ابتدائی تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ منظر عام پر آنے والا ڈیٹا مختلف ذرائع سے جمع شدہ معلوم ہوتا ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ رپورٹ شدہ معلومات میں شہریوں کی فیملی ڈیٹیلز، سفر کی تفصیلات، گاڑیوں کا ریکارڈ اور قومی شناختی نمبرز (CNICs) شامل ہیںتاہم اب تک کسی لائسنس یافتہ آپریٹر کے نظام میں کسی بھی قسم کے ڈیٹا بریچ کی تصدیق نہیں ہوئی۔

اتھارٹی نے یہ بھی بتایا کہ غیر قانونی آن لائن مواد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 1,372 ویب سائٹس، موبائل ایپلیکیشنز اور سوشل میڈیا صفحات کو بلاک کیا گیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے موبائل سمز کا ڈیٹا لیک ہونے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

وزیرداخلہ کی ہدایت پر ایک خصوصی انکوائری ٹیم تشکیل دی گئی ہےجو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی زیرنگرانی کام کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں : نومئی کیس ،خدیجہ شاہ کو 5 سال قید کی سزا

وزارت داخلہ کے مطابق یہ تحقیقاتی ٹیم ڈیٹا لیکج کے معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لے گی اور ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔متعلقہ ٹیم کو 14 دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Scroll to Top