مشن نور بری طرح ناکام ، پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے ہی مخالفت کردی

حرمت رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے ! ” نُور “ اللّٰہ تعالی کے 99 ناموں میں سے ایک مبارک نام ہے جو انتہائی بابرکت ہے لیکن ”مشن نور “ جو پی ٹی آئی آفیشل کا کوئی باضابطہ پروگرام تو نہیں۔

البتہ سوشل میڈیا کے کچھ حضرات کی کاوش تھی اور بیشک نیک نیتی سے ہی ہوگی تاکہ اس ظالم نظام اور اس فارم 47 کی ناجائز حکومت اور انکے ہینڈلرز سے چھٹکارا مل سکے لیکن ”مشن نور “ قادیانیوں کی اصطلاح ہے اور ملعون مرزا قادیانی کے ملعون ساتھی حکیم نورالدین سے اس کا تعلق ہے اور 20 ستمبر ہی کے دن 1948 میں قادیانیوں کے عالمی سازشی مرکز ربوہ کا قیام ہوا تھا۔

اسلئے اس اصطلاحی نام ”مشن نور“ اور دن 20 ستمبر کو اس اصطلاحی نام سے کوئی سیاسی کاوش (Activity) سے اعراض (avoid ) کرنا نہایت ہی ضروری امر ہو گیا ہے۔ ایمان کا تقاضا ہے۔ اگر آذانیں ہی دینی ہیں جو ایک ظالم بادشاہ یا قدرتی آفت وغیرہ سے بچنے کیلئے دی جا سکتی ہیں تو کسی اور دن کسی اور مناسب نام سے دی جا سکتی ہیں لیکن ایسے کسی بھی کام کی معاونت و ترویج ہرگز ہرگز نہ کی جائے گی جس سے ہمارے ایمان پہ کوئی حرف آئے یا ہماری جماعت تحریک انصاف اور ہمارے لیڈر جناب
@ImranKhanPTI
کی معاذاللّٰہ ملعون قادیانیوں سے کوئی بھی مشابہت پیدا ہو۔ ہرگز نہیں ! عمران خان خود ایک سچے عاشق رسول ﷺ ہیں اور ہمیشہ مدنی ریاست و اتباع سنت نبوی ﷺ کے پیروکار و داعی رہے ہیں
الحمدللٰہ۔ تحریک انصاف پاکستان کو مدینہ کی ریاست کی طرز پہ ایک جدید اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی تحریک ہے جہاں آئین و قانون کی حکمرانی ہو اور اسلام کا بول بالا ہو۔جہاں سنت رسول ﷺ اور ختم نبوت کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔ ختم نبوت ﷺ نہیں تو کچھ بھی نہیں ! تاجدارِ ختم نبوت ﷺ زندہ باد پاکستان پائندہ باد

Scroll to Top