توشہ خانہ ٹو کیس کے جشم دیدگواہ اوربانی پی ٹی آئی کے سابق ملٹری سیکرٹری کا اہم بیان سامنے آگیا

توشہ خانہ ٹو کیس کے جشم دیدگواہ اوربانی پی ٹی آئی کے سابق ملٹری سیکرٹری کا اہم بیان سامنے آگیا

توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر (ر) محمد احمد نے عدالت میں اہم بیان ریکارڈ کرایا ہے۔

نجی ٹی وی چینل(جیو نیوز )کے مطابق محمد احمد نے بتایا کہ بلغاری جیولری سیٹ سمیت سعودی ولی عہد کے تحائف توشہ خانہ میں جمع نہیں کرائے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ 15 مئی 2020 سے 10 اپریل 2022 تک عمران خان کے ملٹری سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے رہے، اور سعودی عرب کے دورے میں بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ بریگیڈیئر محمد احمد کے مطابق، عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرانے سے انکار کیا، جن میں جیولری سیٹ، عود کی بوتلیں، زیتون کا تیل، کھجور اور ایک کتاب شامل تھی۔

سابق ملٹری سیکرٹری نے کہا کہ تمام تحائف کی سرکاری پروٹوکول کے مطابق تصاویر بنائی گئیں اور انہوں نے نیب اور ایف آئی اے کے سامنے بھی تفصیلی بیان دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے نمائندے بھی غیر ملکی دوروں کے دوران تحائف کی وصولی پر موجود رہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب سے ملنے والے تحائف کی مالیت تقریباً 29 لاکھ 14 ہزار روپے لگائی گئی تھی، جس کے عوض بشریٰ بی بی نے رقم توشہ خانہ میں جمع کروائی، اور توشہ خانہ سیکشن کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں آیا۔ تحائف کی مالیت کا تعین اور متعلقہ خط و کتابت بھی عمران خان کے حکم پر کی گئی۔

دوسری جانب، ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ بلغاری جیولری سیٹ کی اصل قیمت ساڑھے 7 کروڑ روپے تھی، لیکن عمران خان نے پرائیویٹ اپریزر سے صرف 59 لاکھ روپے مالیت لگوائی اور 29 لاکھ روپے خزانے میں جمع کروائے۔ اس جیولری سیٹ میں نیکلس، بریسلیٹ، ائیررنگز اور انگوٹھی شامل تھیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل توشہ خانہ ٹو کیس کے دیگر اہم گواہان کے بیانات بھی عدالت میں ریکارڈ ہوچکے ہیں، جن میں عمران خان کے سابق پرسنل سیکرٹری انعام اللہ شاہ اور پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی شامل ہیں۔

Scroll to Top