ڈیڈلائن سے پہلے رضا کارانہ طور پر پاکستان نہ چھوڑنے والے افغان مہاجرین کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ

پشاور(محمد اعجاز آفریدی)وفاقی حکومت نے ڈیڈلائن سے پہلےرضا کارانہ طور پر پاکستان نہ چھوڑنے والے افغان مہاجرین کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،اس فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے بارڈر پر قائم شناختی نظام کو نادرا کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے خیبرپختونخوا حکومت کو اس فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کرتے ہوئے چیف سیکرٹری کے نام ایک مراسلہ بھی ارسال کیا ہےجس کے ساتھ وزارت داخلہ میں ہونے والے اجلاس کی کارروائی اور فیصلے بھی شامل ہیں۔

مراسلے کے مطابق تمام غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں پر تین سالہ ویزا پابندی عائد کی گئی ہے، یہ پابندی اے سی سی کارڈ ہولڈرز پر یکم اپریل 2025 سے جبکہ پی او آر کارڈ ہولڈرز پر یکم ستمبر 2025 سے نافذ العمل ہوگی،

وہ افغان مہاجرین جو حکومت کی مقرر کردہ ڈیڈلائن سے قبل وطن واپس چلے جائیں گے، اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے،وفاقی ہدایات کے تحت خیبرپختونخوا کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے دو مراحل پر مشتمل کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

پہلے مرحلے میں کیمپوں میں مقیم افغان باشندوں کو منظم انداز میں واپس بھیجنے کے لیے انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں ان افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو کیمپوں سے باہر یا دیگر صوبوں سے آ کر خیبرپختونخوا کے دیہی علاقوں میں آباد ہو چکے ہیں۔

وزارت داخلہ نے تمام صوبوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے مشترکہ اور مربوط اقدامات کیے جائیں کیونکہ ملک کی داخلی سلامتی اور نظم و ضبط کے لیے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی بے دخلی ناگزیر ہو چکی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، خیبرپختونخوا میں بھی افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری ہے اور واپس بھیجے جانے والے افراد کا ریکارڈ نادرا کے سسٹم میں باقاعدہ طور پر درج کیا جا رہا ہے ۔

محکمہ داخلہ کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ افغان مہاجرین کی واپسی پر ریاست کا فیصلہ حتمی ہے اور محکمہ صرف ریاستی پالیسی کا پابند ہے، کسی سیاسی جماعت کے نعروں یا دباؤ کا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل ایک منظم اور قانونی طریقہ کار کے تحت جاری ہے جس میں اگرچہ وقت لگ سکتا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خیبرپختونخوا افغان مہاجرین کے لیے مستقل پناہ گاہ بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف کے افغانستان سے متعلق بیان پر صوبائی وزیرسجاد بارکوال اور جلال خان کے درمیان تلخ کلامی

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے یکم ستمبر 2025 کو ہونے والے اجلاس میں جو بھی فیصلے کیے گئے ہیں، خیبرپختونخوا حکومت ان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی پابند ہے۔

Scroll to Top