لندن : ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ دن کا آغاز بغیر ناشتہ یا ناشتہ دیر سے کرنے کی عادت نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے، خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کے لیے یہ رویہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ناشتہ دیر سے کرنے والے افراد میں تھکن، ذہنی دباؤ، دانتوں اور مسوڑوں کی بیماریوں کا سامنا زیادہ ہوتا ہے۔
تحقیق میں 42 سے 94 سال کے تین ہزار برطانوی شہریوں کے تین سالہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس سے واضح ہوا کہ ناشتہ میں تاخیر انسانی جسم کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ناشتہ صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں، بلکہ جسمانی، ذہنی اور زبانی صحت کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تحقیق میں شامل افراد میں وہ لوگ جو ناشتہ وقت پر کرتے تھے، نسبتاً زیادہ چاق و چوبند اور صحتمند پائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : ایمل ولی کو سیکیورٹی فراہم کی گئی، اس کے باوجود وہ بدنیتی پر مبنی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہے ہیں، علی امین
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ناشتہ بادشاہوں کی طرح کیا جائے یعنی متوازن مکمل اور وقت پر۔ خاص طور پر بزرگوں کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ ناشتہ جلدی کرنے کی عادت اپنائیں تاکہ عمر بڑھنے کے باوجود وہ صحتمند اور متحرک رہ سکیں۔
یہ تحقیق روزمرہ کی زندگی میں صحت مند معمولات اپنانے کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتی ہے، اور ناشتہ کو دن کا سب سے اہم کھانا قرار دیتی ہے۔





