وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کو قوم کی یکجہتی پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے اور سرحدی دفاع کے معاملات میں یکساں قومی پالیسی ناگزیر ہے۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ریاستی سرحدیں ہر ملک کے لیے مقدس ہیں اور افغان سرزمین سے حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ غیرقانونی ٹھہراؤ اور مسلح عناصر کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے اور غیر ریاستی عناصر کے خلاف یکساں اور مربوط ردِ عمل درکار ہے۔
وزیردفاع نے بارڈر سیکیورٹی اور دفاع کے لیے مرکزی کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل پالیسی کے بغیر سرحدی دفاع اور بارڈر مینجمنٹ ناکافی ہے اور وفاقی ادارے بارڈر سیکیورٹی اور دفاع کی ذمہ داریوں میں مرکزی ہوں گے انہوں نے کہا کہ صوبوں کو قومی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا۔
خواجہ آصف نے سیاسی یکجہتی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا بعض صوبوں کا موقف مختلف ہے مگر قومی پالیسی ایک ہونی چاہیے اور سیاسی تفریق ختم کر کے ہم قومی حل کی جانب بڑھ سکتے ہیں، گفت و شنید کو فروغ دیا جائے مگر قومی مفاد کو اولین رکھا جائے۔
وزیردفاع نے امن و استحکام کے لیے معاشی بنیادوں کی مضبوطی کی بھی حمایت کی اور کہا کہ مقامی معیشت اور روزگار کے مواقع مہیا کر کے استحکام لانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کا نیا وزیراعلیٰ کون ہوگا؟ فیصلہ آج متوقع
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یکجہتی کے بغیر امن و استحکام ممکن نہیں اور نیشنل ایکشن پلان یا اسی نوعیت کی جامع حکمت عملی کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور کہا ریاستی اختیارات اور آئینی حدود کا احترام ضروری ہے اور سرحدی امور میں قوانین اور آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔





