پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قانونی ٹیم کے رکن نعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا ہے کہ آئین میں گورنر کو اعتراض لگانے یا استعفیٰ مسترد کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے علی امین گنڈاپور کے استعفے پر اعتراض لگانا آئینی حدود سے تجاوز ہے، جسے پارٹی مسترد کرتی ہے۔
نعیم پنجوتھہ کا کہنا تھا کہ گورنر نے اپنے اقدام کے حق میں آئین کی کسی شق کا حوالہ نہیں دیا، بلکہ صرف دستخط میں فرق کا دعویٰ کیا۔ ان کے بقول’’گورنر نے واردات ڈالنے کی کوشش کی ہے، جسے ہم تسلیم نہیں کرتے۔‘‘
انہوں نے واضح کیا کہ علی امین گنڈاپور نے تحریری استعفیٰ جمع کرایا تھا اور ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے اپنی رضا مندی ظاہر کی۔ نعیم پنجوتھہ کے مطابق دستخط پر اعتراض صرف اس وقت اٹھایا جا سکتا ہے جب متعلقہ شخص دستیاب نہ ہو، جو اس کیس میں درست نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ’’آج صبح خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوگا، اور سہیل آفریدی نئے وزیراعلیٰ ہوں گے۔‘‘
واضح رہے کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈاپور کے استعفے پر دستخط میں فرق کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا استعفیٰ واپس کر دیا تھا۔ گورنر کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا تھا کہ 8 اور 11 اکتوبر کو دیے گئے استعفوں پر کیے گئے دستخط آپس میں مختلف ہیں، اس لیے ان پر مزید وضاحت درکار ہے۔
دوسری جانب علی امین گنڈاپور نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے استعفے مکمل طور پر آئینی اور دستخط درست ہیں، اور 8 اکتوبر والے استعفے کو پہلے مسترد کرنے کے بعد اب تسلیم کر لیا گیا ہے۔





