وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخاب کو آئینی و قانونی تقاضوں کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس نمبرز پورے ہونے کے باوجود انتخابی عمل میں غیر ضروری عجلت کا مظاہرہ کیا گیا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا بائیکاٹ فیس سیونگ نہیں بلکہ آئینی مؤقف کا اظہار تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا آپ دو وزرائے اعلیٰ کے ساتھ صوبہ چلانا چاہتے ہیں؟ ایک طرف سابق وزیراعلیٰ کا استعفیٰ ابھی منظور نہیں ہوا دوسری جانب نیا وزیراعلیٰ منتخب کرلیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے واک آؤٹ اس لیے کیا کیونکہ وہ اس سارے عمل کو غیر آئینی سمجھتی ہے، سپیکر کو غیر جانبدار اور آئینی دائرہ کار میں رہ کر کردار ادا کرنا چاہیے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے اپنی جماعت کے حق میں جانبدارانہ کردار ادا کیا جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔”
عقیل ملک نے عدالتی مداخلت پر بھی اعتراض اٹھایا اور کہا کہ گورنر کی جانب سے حلف لینے سے انکار سامنے نہیں آیا تھا اس کے باوجود معاملہ عدالت میں لے جایا گیا جو پارلیمانی عمل میں مداخلت کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کے حلف میں مزید تاخیر صوبے کو طرز حکمرانی سے روکنے کے مترادف ہے ، عدالت
ان کا کہنا تھا کہ ایک دن کی تاخیر سے کچھ نہیں ہونا تھا لیکن عدالت سے رجوع کرنے میں بلاوجہ عجلت دکھائی گئی، انہوں نے مزید کہا کہ آئینی عمل میں عجلت، جانبداری اور عدالتی مداخلت جیسے اقدامات نہ صرف آئینی روایت کے خلاف ہیں بلکہ جمہوری نظام کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔





