اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بحریہ ٹاؤن سے منسلک مبینہ منی لانڈرنگ کیسز میں بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصر من اللہ بلوچ نے مقدمات کی سماعت کی۔
عدالت نےبحریہ ٹاؤن کی رقم کو مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بھیجنے کے دومقدمات میں ملک ریاض اوران کے بیٹے علی ریاض کو اشتہاری قرار دے دیا۔
عدالت نے واضح احکامات جاری کرتے ہوئے نہ صرف ملک ریاض اور ان کے بیٹے کو اشتہاری قرار دیا بلکہ ان سمیت دیگر مفرور ملزمان کے قومی شناختی کارڈز اور موبائل سمز بھی بلاک کرنے کا حکم دیا۔
یاد رہے کہ پچھلی سماعت پر عدالت نےتنبیہ کی تھی کہ اگر ملک ریاض اور علی ریاض عدالت میں پیش نہ ہوئے تو انہیں اشتہاری قرار دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد آمد، انتظامیہ کی جانب سے استقبال
اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی جمعرات کی شب خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد پہنچے جہاں ان کا انتظامیہ کی جانب سے پُرتپاک استقبال کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے آئے تھے، تاہم ملاقات نہ ہو سکی۔
خیبر پختونخوا ہاؤس پہنچنے پر ڈائریکٹر انفارمیشن اینڈ پی آر سید بلال حسین اور کنٹرولر طفیل شاہ نے وزیراعلیٰ کا خیرمقدم کیا اور انہیں پھول پیش کیے۔
قبل ازیں روالپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کے لیے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے وفاقی اور پنجاب حکومت کو باضابطہ خطوط ارسال کیے گئے تھے، جن میں درخواست کی گئی کہ وزیر اعلیٰ کے پی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے، تاہم ابھی تک کسی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔





