مودی ٹرمپ سے خوفزدہ ہیں، اسی لیے روسی تیل نہ خریدنے کا فیصلہ کیا: راہول گاندھی

نئی دہلی : روس سے تیل کی خریداری میں کمی پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

پارٹی رہنماؤں نے مودی پر امریکی دباؤ میں فیصلے کرنے اور قومی خودمختاری کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ نریندر مودی امریکی صدر سے ڈرتے ہیں، اسی لیے ٹرمپ کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ دنیا کو بتائیں بھارت روسی تیل نہیں خریدے گا۔

راہول گاندھی نے کہا کہ مودی کی بار بار کی امریکی خوشامد نے بھارت کو عالمی سطح پر شرمندگی سے دوچار کیا۔ مودی نے ٹرمپ کی طرف سے کی گئی مداخلت پر خاموشی اختیار کی، نہ غزہ کانفرنس میں شریک ہوئے، نہ ہی پاک-بھارت جنگ بندی سے متعلق امریکی بیانات کی تردید کی۔

کانگریس کی ترجمان سپریا شریناتے نے وزیراعظم کو طنزاً نریندر مکمل سرینڈر کا لقب دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بھارت کی خودمختاری پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

جبکہ پارٹی کے جنرل سیکریٹری برائے مواصلات جیرم رمیش نے بھی روس سے تیل کی خریداری روکنے کے فیصلے کو مودی سرکار کی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کی عادت قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت نے امریکی دباؤ پر روس سے تیل کی خریداری 50 فیصد کم کردی

یہ بیان بازی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ مودی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ بھارت روسی تیل کی خریداری روک دے گا۔

اب امریکی حکام نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ہے کہ بھارت نے روسی تیل کی خریداری میں 50 فیصد کمی کر دی ہے۔ البتہ مکمل طور پر خریداری بند کرنے کے حوالے سے کوئی حتمی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واضح کرے کہ روس سے تیل کی درآمدات پر فیصلہ بھارت کا ہے یا واشنگٹن کا؟ اور کیا مستقبل میں بھارت اپنی خارجہ پالیسی کو خودمختار انداز میں آگے بڑھائے گا یا امریکی مفادات کے تابع رہے گا؟

Scroll to Top