واشنگٹن: امریکی حکام کے مطابق بھارت نے روس سے تیل کی خریداری میں نمایاں کمی کرتے ہوئے اسے 50 فیصد تک کم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکہ کی طرف سے بڑھتے ہوئے دباؤ اور بھاری ٹیرفز کے بعد کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات مثبت اور تعمیری رہے جس کے نتیجے میں بھارتی ریفائنریوں نے روسی تیل کی درآمدات میں نصف کمی کی ہے۔ تاہم بھارت کا مستقبل میں مکمل طور پر روس سے تیل کی خریداری روکنے کا فیصلہ ابھی واضح نہیں ہوا۔
گذشتہ روز امریکی صدر نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں روسی تیل کی خریداری روکنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگرچہ بھارت ابھی فوری طور پر روس سے تیل کی خریداری مکمل طور پر روک نہیں سکتا، مگر جلد ہی ایسا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : پاک فوج کا ضلع مہمند میں بڑا کامیاب آپریشن، افغان دراندازی ناکام، 34 دہشت گرد ہلاک
دوسری جانب بھارت کی وزارت خارجہ نے مودی اور ٹرمپ کے درمیان روسی تیل کی خریداری روکنے سے متعلق بات چیت کی تردید کر دی ہے، جس سے اس معاملے پر تنازعہ اور بھی بڑھ گیا ہے۔
یہ پیش رفت عالمی توانائی منڈیوں پر بھی گہرا اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ بھارت روسی تیل کا ایک بڑا خریدار رہا ہے، اور اس کے فیصلے سے روس کی تیل کی برآمدات میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔





