ایک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آسٹریلیا کے مرطوب برساتی جنگلات اب وہ کاربن جذب نہیں کر رہے جو وہ ماضی میں کیا کرتے تھے بلکہ اب یہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر رہے ہیں۔
سائنس دانوں نے اس رجحان کو موسمیاتی تبدیلی کا براہِ راست نتیجہ قرار دیتے ہوئے عالمی ماحولیاتی کوششوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
یہ تحقیق ریاست کوئنزلینڈ کے 20 جنگلات میں 49 سال کے دوران جمع کیے گئے اعداد و شمار پر مبنی ہے، شدید درجہ حرارت، فضائی خشکی، خشک سالی اور سائیکلونز کی بڑھتی ہوئی شدت نے درختوں کی اموات میں نمایاں اضافہ کیا ہے جبکہ نئے درختوں کی افزائش میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
تحقیق کے مطابق جنگلات میں موجود پرانے مردہ درختوں کی لکڑی جسے ووڈی بایوماس کہا جاتا ہے تقریباً 25 سال سے کاربن جذب کرنے کے بجائے کاربن خارج کر رہی ہے۔
ویسٹرن سڈنی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر ہنّا کارلے کا کہنا ہے کہ برساتی جنگلات کو روایتی طور پر کاربن سنک سمجھا جاتا ہے لیکن اب یہ کردار بدل رہا ہے، موجودہ ماڈلز ممکنہ طور پر گرم مرطوب جنگلات کی کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر کارلے نے کہا ہے کہ جنگلات عام طور پر فوسل فیولز سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرکے ماحولیاتی توازن میں مدد دیتے ہیں لیکن ہماری تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قدرتی نظام اب دباؤ میں ہے۔
ڈاکٹر کارلے کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے برساتی جنگلات میں یہ تبدیلی دنیا بھر کے لیے ایک انتباہ ہو سکتی ہے، ہمارے پاس ایسے شواہد ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ آسٹریلیا کے مرطوب گرم خطے کے جنگلات دنیا کے پہلے جنگلات ہیں جن میں ووڈی بایوماس کا یہ منفی رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔
تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر پیٹرک میئر کا کہنا ہے کہ یہ نتائج انتہائی تشویشناک ہیں، غالب امکان ہے کہ دنیا کے دیگر گرم مرطوب جنگلات بھی اسی طرح کا ردعمل دکھائیں گے لیکن اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
آسٹریلیا نے حال ہی میں 2035 تک 2005 کی سطح کے مقابلے میں کاربن اخراج میں 62 فیصد کمی کے نئے اہداف مقرر کیے ہیں، لیکن ملک کو فوسل فیولز پر مسلسل انحصار پر عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔
حکومت نے حال ہی میں ملک کے سب سے بڑے گیس منصوبوں میں سے ایک وُڈ سائیڈ کا نارتھ ویسٹ شیلف پروجیکٹ کو مزید 40 سال تک چلانے کی اجازت دی ہے۔
گزشتہ ماہ جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کا درجہ حرارت پہلے ہی 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ چکا ہے جو پیرس معاہدے کے خطرناک حد کے ہدف سے زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور اور پشاور سموگ کی لپیٹ میں، ایئر کوالٹی خطرناک حدیں عبور کر گئی
رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ملک کی کوئی بھی کمیونٹی موسمیاتی خطرات جیسے کہ گرمی، خشک سالی، سیلاب اور جنگلاتی آگ کے متواتر، باہم مربوط اور بیک وقت اثرات سے محفوظ نہیں رہے گی۔
نوٹ: یہ خبر برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی سے لی گئی ہے۔





