اسلام آباد: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر راشد لطیف نے ڈومیسٹک کرکٹ میں استعمال ہونے والی گیندوں کی کارکردگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
راشد لطیف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں استعمال ہونے والی گیندیں تقریباً 20 اوورز کے بعد اپنی اصل رفتار کھو دیتی ہیں، جس کی وجہ سے گرین پچ پر بھی فاسٹ باؤلرز کے لیے باؤلنگ مشکل ہو جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گیند کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے حالیہ میچز میں زیادہ سینچریاں اور ففٹیز بن رہی ہیں اور فاسٹ باؤلرز کی اہمیت کم محسوس ہو رہی ہے۔
راشد لطیف نے کہا کہ شاید اب وہ باؤلرز ہی باقی نہ رہیں کیونکہ سینچریوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوکابورا گیند سے میچز ہو رہے ہیں۔
سابق وکٹ کیپر نے مطالبہ کیا کہ گیندوں کی تحقیق کی جائے کیونکہ صرف تین راؤنڈز کے میچز کے بعد 32 سینچریاں اور 88 ففٹیز بن چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ہنگو میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن مکمل، ایک دہشتگرد ہلاک، بارودی مواد برآمد
راشد لطیف نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ گیندیں خراب ہیں، بلکہ کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ کرکٹ سافٹ ویئر کے ذریعے گیند کی سوئینگ، سیم اور بریک کی ٹریکنگ کا ڈیٹا محفوظ کرے تاکہ باؤلنگ اور گیند کے حوالے سے درست معلومات حاصل کی جا سکیں۔
سابق کپتان نے انگلینڈ کی ڈیوک گیند اور پاکستانی ڈیوک گیند کے رنگ کے فرق کی تصاویر بھی شیئر کیں۔





