کوہستان کی چوڑ وادی اور بلیجہ وادی کو ضلع آلائی میں شامل کرنے کی تجویز کے خلاف عوامی مشران اور مقامی لوگوں کی کثیر تعداد نے کمیلہ بازار گرین چوک پر شدید احتجاجی مظاہرہ کیا اور شاہراہِ قراقرم کو بلاک کر کے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
مظاہرین کا مؤقف تھا کہ کولئی پالس کی حدود میں کسی قسم کی تبدیلی یا اس کے کسی بھی علاقے کو ضلع آلائی میں شامل کرنا ہرگز قبول نہیں، اور ایسی کسی بھی کوشش پر سخت ردعمل دیا جائے گا۔ احتجاجی مظاہرے کے باعث شاہراہِ قراقرم پر ٹریفک معطل رہی، تاہم بعد میں اسے دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔
اس موقع پر ایڈوکیٹ روزی خان نے دعویٰ کیا کہ آلائی کے خانان اور گیلال قبیلے کی جانب سے سرحدی علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے اور پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے کوہستان کے علاقوں پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کوہستان کے عوام سے اتحاد اور تعاون کی اپیل بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں : کوہستان مالیاتی سکینڈل میں نیب کی بڑی کامیابی، مرکزی ملزم کا مبینہ فرنٹ مین نعمان گرفتار
ذرائع کے مطابق سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے باوجود حکومت اور مقامی انتظامیہ اب تک صورتحال پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔





