طورخم تجارتی گزرگاہ 16ویں روز بھی بند، دوطرفہ تجارت متاثر

طورخم تجارتی گزرگاہ 16ویں روز بھی بند، دوطرفہ تجارت متاثر

طورخم تجارتی گزرگاہ دوطرفہ تجارت کیلئے آج 16ویں روز بھی بند ہے، جس کے باعث ہزاروں کارگو گاڑیاں لمبی قطاروں میں پھنس گئی ہیں۔

کسٹم ذرائع کے مطابق گزرگاہ کی بندش سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات بلکہ افغانستان سے درآمدات بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔پاکستان افغانستان کو سیمنٹ، ادویات، کپڑا، تازہ پھل اور سبزیاں سمیت مختلف اشیاء برآمد کرتا ہے، جبکہ افغانستان سے کوئلہ، سوپ اسٹون، خشک اور تازہ پھل، اور دیگر تجارتی سامان پاکستان آتا ہے۔ تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی اس بندش سے متاثر ہوئی ہے۔

کسٹم حکام نے بتایا کہ طورخم کے ذریعے دوطرفہ تجارتی سرگرمیاں سکیورٹی حکام کی منظوری کے بعد ہی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں، تاہم اس وقت تک تجارتی گاڑیاں سرحد پر رک کر منتظر ہیں۔ تجارتی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گزرگاہ کو جلد از جلد کھولا جائے تاکہ کاروباری نقصان اور سپلائی چین میں رکاوٹ ختم ہو۔

سرحدی بندش کی وجہ ابھی واضح نہیں کی گئی، تاہم سکیورٹی وجوہات کو بنیاد بنایا جا رہا ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ طورخم کی بندش خطے کی اقتصادی سرگرمیوں پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے اور تاجروں کے لیے شدید مالی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

Scroll to Top