پشاور: گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر عائد پابندی کے خلاف گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھا ہے۔
گورنر کے خط میں گندم کی ترسیل پر مبینہ پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے خط میں موقف اختیار کیا کہ صوبوں کے درمیان گندم کی آزادانہ نقل و حرکت تجارتی ہم آہنگی اور غذائی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قسم کی پابندیاں نہ صرف کسانوں اور تاجروں کے معاشی مفادات کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 151 کی بھی خلاف ورزی ہیں، جو ملک میں آزاد تجارت کی ضمانت دیتا ہے۔
گورنر نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری نوٹس لیں اور متعلقہ حکام کو ہدایت دیں کہ گندم کی بین الصوبائی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں تاکہ صوبوں کے درمیان تجارت کا تسلسل برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھیں : گندم کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندی آئین کی خلاف ورزی ہے، احمد کنڈی
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی احمد کنڈی نے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناءاللہ خان کو خط لکھ کر گندم کی خیبرپختونخوا کو فراہمی پر عائد پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
احمد کنڈی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت صوبوں کے درمیان تجارت، کاروبار اور اشیائے خورد و نوش کی ترسیل پر کسی قسم کی رکاوٹ آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا ایک گندم کی کمی والا صوبہ ہے اور دیگر صوبوں سے گندم کی ترسیل پر انحصار کرتا ہے۔
احمد کریم کنڈٰی نے وفاقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسی پابندیاں نہ صرف آٹے کی مصنوعی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا باعث بنیں گی بلکہ عوامی مشکلات میں بھی اضافہ کریں گی۔
احمد کنڈی نے مطالبہ کیا کہ وفاق فوری طور پر پابندیاں ختم کرے تاکہ آئینی و وفاقی ہم آہنگی قائم رہے اور صوبے کو گندم کی ضروریات کے لیے درکار وسائل فراہم ہوں۔





