جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل کی فوجی قیادت نے واضح کیا ہے کہ غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے خلاف جنگ اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک آخری مغوی کی لاش واپس نہیں لائی جاتی۔
اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ فوج مستقبل کی طرف دیکھ رہی ہے مگر ماضی کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے۔
تجربات سے سیکھنا اور سبق اخذ کرنا ہمارا اخلاقی اور پیشہ ورانہ فریضہ ہے اور ہم یہ کام ہمت اور عزم کے ساتھ کریں گے۔
اسرائیلی آرمی چیف نے فوجیوں سے خطاب میں کہا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، ہمیں اپنے مشن کو مکمل کرنا ہے، مغویوں کی واپسی اور حماس کے خلاف مہم جاری رکھنی ہے۔
انہوں نے فوجیوں کو ہٹ دھرمی سے پیغام دیا کہ تمام محاذوں پر ممکنہ چیلنجز کے لیے تیار رہنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حماس نے ایک اور یرغمالی کی لاش اسرائیل کے حوالے کر دی
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ایک اور یرغمالی کی لاش اسرائیل کے حوالے کر دی ہے، جس کی تصدیق اسرائیلی فوج نے ریڈ کراس کے ذریعے کی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق لاش کو پولیس کی نگرانی میں تل ابیب کے ابو کبیر فرانزک انسٹی ٹیوٹ منتقل کر دیا گیا، جہاں شناخت کا عمل دو دن تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
حماس اس سے قبل 16 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر چکی ہے، جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس کے پاس اب بھی 12 یرغمالیوں کی لاشیں موجود ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہلاک یرغمالیوں کی تلاش میں مدد کے لیے مصری تکنیکی ٹیم کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی ہے۔
حکومت کے ترجمان کے مطابق ریڈ کراس اور مصری ٹیموں کو غزہ میں اسرائیلی فوج کی ییلو لائن کے پار جا کر یرغمالیوں کی لاشیں تلاش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔





