ہم ایک ریاست، دو دستور کا کلچر ختم کرنے آئے ہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

ہم ایک ریاست، دو دستور کا کلچر ختم کرنے آئے ہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کا مشن ملک میں ’’ایک ریاست، دو دستور‘‘ کے کلچر کا خاتمہ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ہماری جدوجہد حقیقی آزادی، آئین کی سربلندی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہے، جس میں وکلا برادری کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے کی بار ایسوسی ایشنز کے لیے 42 کروڑ روپے کے گرانٹس منظور ہو چکے ہیں جو چند روز میں جاری کر دیے جائیں گے، تاکہ عدالتی و قانونی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے آئین اور قانون کو مکڑی کا جالا نہیں بننے دینا جس میں کمزور پھنس جائے اور طاقتور نکل جائے۔ ’’ہم انصاف کے ایسے نظام کے قیام کے لیے کام کر رہے ہیں جہاں ہر شہری قانون کے سامنے برابر ہو، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔‘‘

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے عدالتی احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا، جو عدلیہ کی آزادی پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری تحریک عدلیہ کی خودمختاری، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور میڈیا کی آزادی کے تحفظ کے لیے جاری ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا یہ بیان موجودہ سیاسی حالات میں ایک مضبوط پیغام ہے، جس سے حکومت کے آئینی و جمہوری عزم کی جھلک واضح ہوتی ہے۔

Scroll to Top