شیراز احمد شیرازی
پشاور:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی نااہلی کیلئے چیف الیکشن کمشنر کو درخواست دیدی گئی ۔
درخواست خیبرپختونخوا بار کونسل الیکشن کے امیدوار ایڈووکیٹ میاں صبغت اللہ شاہ کی جانب سے دائر کی گئی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعلی سہیل آفریدی نے حالیہ بار الیکشنز میں انصاف لائرز فورم (ILF) کے امیدواروں کی حمایت کی جو ان کی بد نیتی کو ظاہر کرتی ہے۔
مزید کہا گیا کہ ان کے اس اقدام سے آرٹیکل 2اے، 4، 5، 6، 9 اور 25 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوئی ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کا یہ عمل ممبر اسمبلی اور وزیراعلی کی حیثیت سے نااہلی کے زمرے میں آتا ہے۔
ا استدعا کی گئی ہے کہ انہیں فوری طور پر انصاف لائرز فورم کی حمایت اور ملاقاتوں سے روکا جائے اور وزیراعلی کی حیثیت سے نااہل قرار دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعلی سہیل آفریدی کی عمران خان سے پھر ملاقات نہ ہوسکی
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ایک بار پھر ملاقات نہ ہوسکی جس پر انہوں نے توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ٓاڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم توہین عدالت کی درخواست اس لیے دے رہے ہیں کیونکہ تین جج صاحبان کے احکامات کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے قائد عمران خان کے مقدمات کی سماعت سپریم کورٹ میں نہیں ہو رہی جبکہ ہم عدالتِ عظمیٰ سے یہ درخواست کر رہے ہیں کہ آئین کی بالادستی کے لیے اقدام اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام وکلا سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیں انصاف پر یقین ہے۔
سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ ملک میں عدالتی فیصلے آزادانہ نہیں ہو رہے بلکہ کسی کے اشارے پر دیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق جس دن انصاف اپنی اصل روح کے مطابق ہوگا عمران خان جیل سے باہر ہوں گے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ خود ججز نے خط کے ذریعے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ان کے فیصلوں میں مداخلت ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم ججز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان عناصر کے نام بتائیں جو عدالتی فیصلوں میں اثرانداز ہو رہے ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ ملاقات نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں عمران خان سے پیغامات موصول نہیں ہو رہے۔





