وادی لیپہ سیکٹر میں بھارتی فوج کی جانب سے دراندازی کی کوشش پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دی۔ دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
کارروائی کے دوران بھارتی 17 برگیڈ کی 20 راج رجمنٹ کے 8 اہلکار ہلاک اور 14 زخمی ہوئے، جب کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک جے سی او بھی شامل ہے۔
بھارتی فورسز کی جانب سے سفید جھنڈے لہرانے کے بعد پاک فوج نے فائرنگ کا سلسلہ روک دیا۔
فائرنگ کا تبادلہ تین گھنٹے سے زائد جاری رہا جس دوران بھارت کی متعدد چوکیاں، جن میں کمار ٹاپ، گوڑا نکہ، پمپل 1 اور پمپل 2 شامل ہیں، مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔
دشمن کی پسپائی کے بعد وادی لیپہ کے حالات معمول پر آگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : استنبول مذاکرات کی ناکامی، افغان طالبان حکومت کے اندرونی اختلافات یا بھارت کی خفیہ ہدایات، مودی سرکار کی مداخلت سامنے آگئی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترکیہ میں منعقدہ قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے ’استنبول مذاکرات ‘ کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ قطری اور ترک ثالثین کی زیرِ نگرانی ہونے والے یہ مذاکرات سفارتی ناکامی کی وجہ سے نہیں بلکہ افغان حکومت کے اندرونی اختلافات، اقتدار کی رسہ کشی، ہٹ دھرمی اور خفیہ ہاتھ (بھارت) کے ملوث ہونے کے باعث تعطل کا شکار ہوئے۔
قابلِ اعتماد پاکستانی ذرائع کے مطابق افغان وفد الجھاؤ کا شکار رہا ہے، غیرمنظم اور دہشتگرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کے حوالے سے مکمل غیر سنجیدہ دکھائی دیا۔ ابتدائی مذاکرات سے ہی واضح ہو گیا تھا کہ افغان وفد ایک متحد آواز کے ساتھ بات نہیں کر رہی۔ وفد کو 3 مختلف طاقت کے مراک، ’قندھار‘، ’کابل‘ اور ’خوست‘ سے متضاد ہدایات موصول ہو رہی تھیں۔





