لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو طبی مسائل کے باعث پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (PKLI) لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان کے پتے میں پتھری کی تشخیص ہوئی ہے اور گال بلیڈر کی سرجری متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی 28 اکتوبر سے اسپتال میں زیر علاج ہیں، جہاں ان کا معائنہ ڈاکٹر فیصل کر رہے ہیں۔
ادھر اسپتال میں پی ٹی آئی کے سابق رہنماؤں نے شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی، جن میں فواد چوہدری، مولوی محمود اور عمران اسماعیل شامل تھے۔
ملاقات کے دوران سابق رہنماؤں نے شاہ محمود قریشی کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : شاہ محمود قریشی کے بیٹے کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
اسلام آباد کے انسداد دہشتگردی کے جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی رہنماوں کے خلاف سنگجانی جلسہ کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے زین قریشی کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کے ساتھ عمر ایوب اور زرتاج گل کے خلاف اشتہاری کارروائی کا آغاز بھی کر دیا ہے۔
سماعت کے دوران پی ٹی آئی رہنما علی بخاری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی گئی، کیس تھانہ سنگجانی میں درج ہے۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کے حوالے سے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زین قریشی عرس میں شامل ہیں لیکن عدالت میں پیش نہیں ہو رہے۔
جج نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اُن سے کہیں کہ کوئی پھوک ماریں تاکہ عدالت وارنٹ ختم کر دے، قریشی صاحب یا تو درباروں میں بیٹھ جائیں، تعویز دھاگا کریں یا مکمل سیاست کریں، شاید اُن کی سیاست مذہب کی بنیاد پر ہے۔
انسداد دہشتگردی عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی ہے اور دیگر رہنماوں کی پیشی کا بھی نوٹس لیا گیا ہے۔
23 اکتوبر کو تینوں ملزمان کے وارنٹ گرفتاری انسداد دہشت گردی عدالت نے جاری کئے گئے تھے، ملزمان کے وارنٹ گرفتاری تھانہ سنگجانی کے مقدمے میں جاری کئے گئے۔





