بھارتی لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر پھر برس پڑے اور ان پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارت کے بڑے کاروباری گروپوں کے زیر اثر ہیں۔
راہول گاندھی نے کہا کہ بہت چوڑا سینہ ہونا کسی کو مضبوط نہیں بناتا، ذرا مہاتما گاندھی کو دیکھیں جو دبلے تھے لیکن اس وقت کے سپر پاور انگیزروں سے مقابلہ کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مودی ٹرمپ کے فون کالز سے خوفزدہ ہیں اور پاکستان کے ساتھ فوجی تنازع آپریشن سندور کے دوران ٹرمپ کی ہدایت پر دو دن میں ختم ہو گیا۔
راہول گاندھی نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نہ صرف امریکا کے دباؤ کے تحت کام کرتے ہیں بلکہ ان کا ریموٹ کنٹرول بھارت کے بڑے صنعتکاروں جیسے امت اڈانی اور مُکی امبانی کے ہاتھوں میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے بڑے فیصلے جیسے جی ایس ٹی اور نوٹ بندی، چھوٹے کاروباروں کو نقصان پہنچانے اور بڑے صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی ٹرمپ سے خوفزدہ ہیں، اسی لیے روسی تیل نہ خریدنے کا فیصلہ کیا: راہول گاندھی
کانگریس رہنما راہول گاندھی نے مزید کہا کہ وہ ووٹوں کے لیے سٹیج پر بھی ناچیں گے، الیکشن کے دن تک آپ جو کچھ کہیں گے مودی وہی کریں گے لیکن انتخابات کے بعد وہ صرف اپنے پسندیدہ اداروں کے لیے کام کریں گے۔





